انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 392

انوار العلوم جلد ۲ ۳۹۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) وہ زمانہ سچائی کی دلیل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ صرف اس زمانہ کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں آپ نے دعوی نبوت کیا۔ اور اسے تریاق القلوب کے بعد کا زمانہ فرض کر کے آپ پر الزام لگا دیا جاتا۔ لیکن جبکہ یہ بات نہیں۔ اور آپ کے اعلان شائع کرنے پر اللہ تعالی نے آپ کو تئیس سال سے زیادہ عمر دی۔ تو آپ کی صداقت ثابت ہے۔ اور اگر فی الواقعہ ایسا ہی ہو کہ آپ نے دعوی نبوت ۱۹۰۲ء میں ہی کیا ہو ۔ تب بھی آپ پر کوئی الزام نہیں کیونکہ آپ کا خدا کی طرف سے ہونا تو پہلے ثابت ہو چکا تھا۔ پھر آپ کسی وقت بھی کوئی نیا دعویٰ کرتے اور جلد فوت ہو جاتے تو آپ پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ اگر کہو کہ نہیں ہم یہ نہیں مانتے۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تئیس سال کی عمر سے تو صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اور مسلم تھے ۔ نبوت تبھی ثابت ہو ثابت ہو سکتی ہے کہ نبوت کے دعوے پر پھر تئیس سال گزر جاویں تو میں کہتا ہوں کہ یہ بات بھی باطل ہے اس لئے کہ یہ شرط تو تم نے اپنے پاس سے لگائی ہے جبکہ خدا تعالیٰ صرف تقول کی شرط لگاتا ہے اور اس آیت کے ما تحت حضرت صاحب کی صداقت ثابت ہو چکی ہے تو اب یہ خیال کیسا مجنونانہ ہو گا۔ کہ بیشک آپ مامور تو ثابت ہو جاتے ہیں لیکن آپ دعوی نبوت میں جھوٹے تھے۔ کیا مامور اور خدا تعالیٰ کا ملم بھی جھوٹا ہو سکتا ہے پس جب اس آیت سے آپ کا مامور اور مسلم اور خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو گیا تو اب کسی وقت آپ کوئی نیا دعوی کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے بعد بھی ضرور تئیس سال زندہ رہیں کیونکہ یہ آیت تو صداقت ثابت کرنے کی ایک علامت تھی۔ جب ایک دعوے کی صداقت اس آیت کے ماتحت ثابت ہو گئی تو کچھ ضرورت نہیں کہ ہر دعوے پر اس قدر عرصہ گزرے۔ جب ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو گیا تو اس کا ہر دعوی سچا ہے ۔ خواہ کسی وقت کرے۔ کرشن ہونے کا دعوی بھی حضرت صاحب نے ۱۹۰۰ء کے بعد پیش کیا ہے ۔ اب کیا ہم نعوذ باللہ آپ کو اس پ کو اس لئے کاذب کہیں کہ اس دعوٹی کے بعد آپ بہت کم مدت تک زندہ رہے۔ پھر اگر اس طرح اپنی طرف سے شرائط لگنی شروع ہو گئیں تو نہایت مشکل پیدا ہو جائے گی۔ اور شاید پھر اس بات کی بھی ضرورت پیش آئے کہ ہر ایک مامور کو تئیس سال پہلے سے الہام ہونے بند ہو جائیں ورنہ لوگ کہہ دیں گے کہ گو پہلے الہابات میں تو یہ شخص سچا تھا۔ مگر دیکھو کہ فلاں الہام پر تئیس سال نہیں گذرے اس لئے معلوم ہوا کہ وہ الہام اس نے خود بنا لیا تھا۔ اس لئے تئیس سال کے اندر ہلاک ہو گیا۔ جناب ذرا غور تو کریں کہ آپ کی ان کچی اور بے دلیل باتوں سے دین کیسا قابل اعتراض بن جاتا ہے۔ اور اسلام قابل مضحکہ قرار پاتا ہے نعوذ باللہ من ذالک ۔ پھر اگر آپ