انوارالعلوم (جلد 2) — Page 391
انوار العلوم جلد ۲ ۳۹۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) دعوٹی میں کوئی فرق نہ ثابت ہوا تو وہ الہامات کی بناء پر ہے اور الہامات میں تبدیلی نہیں ہوئی اور جب سے آ۔ آپ پ کو الہامات ہونے شروع ہوئے آخر وقت تک ان میں سے کسی پچھلے نام کو منسوخ کر کے نیا نہیں بتایا گیا کہ ہم کہیں کہ تئیس سال کی میعاد پوری نہیں ہوئی۔ معنی ۲- دو سرا جواب اس بات کا یہ ہے کہ آپ نے قرآن کریم پر کافی غور نہ کرنے کی وجہ ۔ وجہ سے یہ دھوکا کھایا ہے قرآن کریم کے الفاظ ہیں کو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ (الحاقہ : ۴۵) اور کو تقول کے معنی کسی لغت میں بھی یہ نہیں کہ کو تنبا یعنی اگر نبوت کا دعوی کرتا بلکہ الفاظ قرآن کے ا یہ ہیں کہ اگر ہم پر بعض باتیں جھوٹ بنا کر لوگوں کو سناتا کیونکہ تقول قَوْلُ سے باب تفعل کا تَقُولَ صیغہ ماضی ہے اور قول کے معنی بیان کرنے اور کہنے کے ہیں اور باب تفعل کا ایک خاصہ یہ ہے کہ وہ تکلف اور بناوٹ کے معنی دیتا ہے پس تقول کے معنی اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر کہہ دینے کے ہیں اور اور تَقَوَّلَ عَلَى اَحَدٍ کے معنی یہ ایہ ہوتے ہیں کہ اپنی طرف سے ایک بات بنا کر کسی دو شخص کی طرف منسوب کر کے سنادینی۔ ہوتا۔ 1۔ دوسرے پس لو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ کے یہ معنی ہوئے کہ اگر یہ شخص بعض باتیں اپنی طرف سے بنا کر ہماری طرف منسوب کرتا۔ اور لوگوں کو سنا تا کہ خدا تعالیٰ نے اس طرح کہا ہے (تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے) اب آپ غور فرمائیں کہ اس آیت کے کون سے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ صرف جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے والا ہلاک ہوتا ہے اگر جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے والا مراد تا تولو تنبا ہو تا۔ یعنی اگر یہ شخص جھو ٹانبی بن جاتا۔ مگر قرآن کریم میں کو تقول ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے جھوٹے نبی کے لئے ہی یہ سزا مقرر نہیں فرمائی کہ وہ ہلاک کیا جاتا ہے بلکہ خواہ کوئی شخص صرف الہام کا دعوی کرتا ہو اور مدعی مأموریت ہو تب بھی وہ ہلاک کیا جاتا ہے جبکہ یہ بات ثابت ہو گئی تو آپ کا اعتراض دور ہو گیا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے الہام کا دعوی ۱۸۸۰ء میں شائع کیا ہے۔ اور اس کے بعد آپ اٹھائیس سال تک زندہ رہے بلکہ زبانی طور پر تو اس سے بھی پہلے اپنے الہام شائع کر رہے تھے ۔ اور قریباً چالیس سال متواتر اپنے الہامات کی اشاعت کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیاب و با مراد کیا۔ پس آپ پر کو تقول والی آیت کیونکر حجت ہو سکتی ہے یہ تو حضرت مسیح موعود کی تائید میں دلیل ہے۔ ہاں اگر قرآن کریم میں کو تبا ہو تا یعنی اگر کوئی جھوٹا دعوی نبوت کا کرے تو اس کو ہلاک کر دیا جاتا ہے تب اس بناء پر بیشک حضرت صاحب پر اعتراض ہو سکتا تھا کہ کہ ابتدائے زمانہ میں تو آپ نے دعوی نبوت نہ کیا تھا۔ اس لئے آپ کی زندگی کا