انوارالعلوم (جلد 2) — Page 331
2 انوار العلوم جلد ۲ ۳۳۱ القول الفصل اور حق کے جو یاں ہوں مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جماعت کا موجودہ اختلاف کوئی معمولی بات نہیں اگر وہ اس امر میں کامل غور اور فکر سے کام لے کر حق کی اتباع نہ کریں گے تو ان کو خدا تعالی کے حضور جوابدہ ہونا ہو گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اور ضرور ضرور وہ اس کی آبیاری کرے گا۔ کوئی آندھی کوئی طوفان خطر ناک سے خطر ناک ژالہ باری اس پودا کو اکھاڑ نہیں سکتی۔ خشک نہیں کر سکتی جلا نہیں سکتی کیونکہ اس پورا کا محافظ اس کا نگران خود اللہ تعالیٰ ہے لیکن وہ جو اپنے عمل سے یا اپنے قول سے خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے پورا کو اکھاڑنا چاہتے ہیں اس کے جلائے ہوئے چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں اپنی فکر کریں۔ نیک نیتی اور غلط فہمی بیشک ایک حد تک ایک جرم کو ہلکا بنا دیتی ہے لیکن یہ عذر ایسے زبردست نہیں کہ ان کے پیش کرنے سے انسان الہی گرفت سے بالکل محفوظ ہو جائے ۔ ہر ایک شخص اپنی قبر میں خود جائے گا اور کوئی شخص اس کا مددگار نہ ہو گا۔ اللہ تعالی نے ہم میں سے ہر ایک انسان کو عقل اور فہم عطا فرمایا ہے۔ پس ہر ایک شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے صرف یہ خیال کرکے کہ ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ ہیں جو تمہارے خیال میں بہت سی خدمات دین کر چکا ہے تم بچ نہیں سکتے تمہارا یسی فرض نہیں کہ تم اس قدر غور کر لو کہ تم جس کے ساتھ ہو وہ کسی وقت کوئی اچھی خدمت کر چکا ہے نہ یہ کہ تم جس کے ساتھ ہو وہ کسی بڑے آدمی کا بیٹا ہے بلکہ تم میں سے ہر ایک شخص اس بات کا پابند ہے کہ اس عقل اور فہم سے کام لے جو خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو عطا فرمایا ہے اپنے اپنے طور پر غور کرو اور دیکھو کہ وہ کون لوگ ہیں جو مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی تعلیم اور اس کے مشن کو تباہ کر رہے ہیں آخر تم لوگ سالہا سال تک مسیح موعود کے ساتھ رہے ہو اس کی کتابیں موجود ہیں۔ اس کا اپنے آپ کو دشمنوں کے سامنے پیش کرنے کا طریق اس کا اپنے دعوے پر زور دینا اس کا یورپ و امریکہ میں تبلیغ کرنا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس کے عمل پر غور کرو کہ وہ تمہارے لئے حکم و عدل مقرر کیا گیا ہے اپنی ہوا و ہوس کو چھوڑ کر خدا کے پھینکے ہوئے مضبوط رسے کو پکڑ لو تا نجات پاؤ ۔ دیکھو اسلام اس وقت ایک سخت مصیبت میں ہے اور اس کے بچانے کے لئے اللہ تعالٰی نے مسیح موعود کو بھیجا ہے اسے چھوڑ کر اسلام ہرگز ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا کے سامنے مسیح موعود کو پیش کرو کہ اس کے نام سے شیطان کی افواج بھاگیں گی۔ وہ اس زمانہ کے لئے آنحضرت اللہ کی افواج کا سپہ سالار ہے اور آئندہ ہر ایک زمانہ میں اس کے پروانہ کے بغیر کوئی شخص دربار خاتم النبیین میں بازیاب نہیں ہو سکتا۔ پس تم اپنے طریق پر غور کرو تا ایسا نہ ہو کہ غلطی سے اس شخص کی ہتک کر بیٹھو جسے خدا نے معزز کیا ہے