انوارالعلوم (جلد 2) — Page 332
انوار العلوم جلد ۲ ۳۳۲ القول الفصل کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ مسیح موعود کی عزت کو بلند کرے جو اس کی ہتک کرتا ہے اور جو اس کے درجہ کو گھٹاتا ہے ضرور ہے کہ اس کی ہتک کی جائے اور اس کے درجے کو گھٹایا جائے ۔ مسیح موعود کی عزت میں آنحضرت ا کی عزت ہے کیونکہ جس کا سپہ سالار بڑے درجہ کا ہو وہ آقا ضرور ہے کہ اور بھی اعلیٰ شان کا ہو ۔ میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہتا ہوں کہ میں نے حصول خلافت کے لئے کوئی منصوبہ بازی نہیں کی میرے موٹی نے پکڑ کر مجھے خلیفہ بنا دیا ہے میں اپنی لیاقت یا خدمت تمہارے سامنے پیش نہیں کرتا کیونکہ میں الہی کام کے مقابلہ میں خدمات یا لیاقت کا سوال اٹھانا حماقت خیال کرتا ہوں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی کام کسی طرح کرنا چاہئے ۔ خدا نے جو کچھ کیا ہے اسے قبول کرو مجھے کسی عزت کی خواہش نہیں مجھے کسی رتبہ کی طمع نہیں مجھے کسی حکومت کی تڑپ نہیں وہ شخص جو یہ خیال کرتا ہے کہ میں خلافت کا مسئلہ جاہ پسندی کی غرض سے چھیڑتا ہوں نادان ہے اسے میرے دل کا حال معلوم نہیں میری ایک ہی خواہش ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اللہ تعالٰی کی عظمت پھر قائم ہو جائے اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ اس اسلام کو دنیا کے سامنے نہ پیش کیا جائے جو مسیح موعود دنیا میں لایا ۔ مسیح موعود کے بغیر اس زمانہ میں اسلام مردہ ہے ہر زمانہ کے لئے ایک شخص مذہب کی جان ہوتا ہے اور اب خدا تعالٰی نے مسیح موعود کو اسلام کی روح قرار دیا ہے۔ پس میں خدا تعالی کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح ہوں۔ مجھے دنیا کا لالچ نہیں۔ میرا کام صرف اپنے رب کے ذکر کو بلند کرنا ہے۔ اور وہ بھی اپنی لیاقت اور اپنے علم کے زور سے نہیں بلکہ ان ذرائع سے جو خود اللہ تعالیٰ میرے لئے مہیا فرمادے ۔ پس بدظنیوں کو دور کرو اور خدا کے فیصلہ کو قبول کر لو کہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ اچھا نہیں ہوتا۔ نادان ہے وہ جو اس کام میں مجھ پر نظر کرتا ہے۔ میں تو ایک پردہ ہوں اسے چاہئے کہ وہ اس ذات پر نظر کرے جو میرے پیچھے ہے۔ احمق انسان تلوار کو دیکھتا ہے لیکن دانا وہی ہے جو تلوار چلانے والے کو دیکھے ۔ کیونکہ لائق شمشیر زن کند تلوار سے وہ کام لے سکتا ہے کہ بے علم تیز تلوار سے وہ کام نہیں لے سکتا۔ پس تم مجھے کند تلوار خیال کرو۔ مگر میں جس۔ جس کے ہاتھ میں ہوں ہوں وہ بہت بڑا شمشیر زن ہے اور اس کے ہاتھ میں میں وہ کام دے سکتا ہوں جو نہایت تیز تلوار کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں دے سکتی۔ میں حیران ہوں کہ تمہیں کن الفاظ میں سمجھاؤں مبارک وقت کو ضائع نہ کرو اور جماعت کو پراگندہ کرنے سے ڈرو۔ آؤ کہ اب ؟ بھی وقت ہے ابھی وقت گزر نہیں گیا۔ خدا کا عفو بہت وسیع ہے اور اس کا رحم بے اندازہ۔ پس اس کے