انوارالعلوم (جلد 2) — Page 330
انوار العلوم جلد ۲ داخل دفتر کیا جائے"۔ ۳۳۰ القول الفصل کیا حضرت صاحب کی وفات پر پہلے ہی اجلاس میں مجلس معتمدین نے جس میں آپ بھی حاضر تھے اس حکم کے خلاف نہ کیا جو حضرت مسیح موعود نے دیا تھا آپ شاید کہیں گے کہ ہم نے خود وجہ بھی لکھ دی تھی کہ حالات دگرگوں ہو گئے اس لئے اس حکم کو تبدیل کر دیا گیا یہی جواب آپ اپنے اعتراض کا سمجھ لیں۔ جب مسیح موعود کے حکم کو حالات کے بدل جانے سے بدلا جا سکتا ہے تو کیوں حضرت خلیفہ اول کے احکام کو نہیں بدلا جا سکتا۔ حضرت کی وفات کے بعد یہاں آدمیوں کی ضرورت تھی۔ اس لئے میں نے ان کو روک دیا پھر لعل شاہ صاحب برق کے متعلق جو فیصلہ حضرت مسیح موعود کا تھا اس کو آپ کی ہی تحریک پر حضرت خلیفہ اول نے بدل دیا یا نہیں۔ اور مولوی شیر علی صاحب کے معاملہ میں تو ایک فرق بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ مولوی صاحب نے اپنی رخصت آپ منسوخ کروائی تھی نہ کہ میں نے منسوخ کی تھی۔ ایک بات آپ اور بھی لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا نام کاٹ دیا گیا مجھے تعجب ہے کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ کچی بات کو پیش کرنا چاہئے نہ کہ جذبات کو اکسانے والی باتوں کو۔ اور پھر آپ خود ایسے کام کرتے ہیں کیا کہیں میں نے یہ فیصلہ شائع کیا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود مسیح موعود نہ تھے یا یہ کہ اب ان کی جگہ میں مسیح موعود ہوں یا یہ کہ اب ان کا حکم ماننا ضروری نہیں؟ اب صرف میرا حکم ماننا ضروری ہے۔ اگر ایسا ہو تا تو بیشک آپ کہہ سکتے تھے کہ مسیح موعود کا نام کاٹ دیا گیا۔ لیکن جب کہ ان باتوں سے کوئی بھی نہیں تو پھر آپ کا ایک بات کو غلط پیرایہ میں بیان کرنے سے سوائے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے کیا مطلب ہے۔ انجمن کا قاعدہ تھا کہ مسیح موعود کی زندگی میں انجمن کے معاملات میں آپ کا حکم آخری ہو گا بعد میں انجمن کا۔ اس کی بجائے جماعت احمد یہ کے قائم مقاموں نے انجمن کو مجبور کیا کہ وہ اس قاعدہ میں اصلاح کرے اور خلفاء کے حکم کو آخری قرار دے اور اسی وجہ سے میرا نام وہاں لکھا گیا۔ اب آپ بتائیں گے کہ کیا اسکو مسیح موعود کا نام کاٹ دینا کہتے ہیں۔ نام تو انجمن چھ سال پہلے کاٹ چکی تھی کیونکہ اس ریزولیوشن کے انجمن یہ معنی کرتی تھی کہ اب ہم حاکم ہیں۔ جماعت نے اس کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ خلیفہ وقت کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے اور اس کے ماتحت تبدیلی ہوئی۔ آپ کا اس امر کو یہ رنگ دینا کہ گویا فیصلہ کر دیا گیا کہ مسیح موعود کا نام مٹا دیا جائے انعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ) کہاں تک دیانتداری کے ماتحت ہے۔ میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ان تمام لوگوں کو جو صداقت کے طالب ہوں اور راستی