انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 329

انوار العلوم جلد ۲ میری طرف سے ہرگز نہیں ہوا۔ ۳۲۹ القول الفصل که آ - وہ زندہ ہو۔ اس خواجہ صاحب اپنے لیکچر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے کیوں مولوی شیر علی صاحب کو ولایت جانے سے روک دیا حالانکہ میں خلیفہ اول سے وعدہ کر چکا تھا کہ میں آپ کے حکم بھی مانوں گا اور آپ کے بعد کے خلفاء کا بھی حالانکہ مجھے حضرت رت ابو ابو بکر بکر اور اور ابو ابو ، عبیدہ کی مثال یاد کرنی چاہئے تھی۔ میں حیران ہوں کہ خواجہ صاحب نے میرے وعدہ سے میرے عمل کو مخالف کس طرح سمجھا۔ میں نے کہا تھا کہ حضرت خلیفہ اول کا حکم بھی مانوں گا اور بعد کے خلفاء کا بھی حضرت کی زندگی تک میرا فرض تھا۔ آپ کے حکم مانتا اور بعد میں جو مانتا اور بعد میں جو خلیفہ ہوتا اس کے حکم ماننا میر حکم ماننا میرا فرض تھا۔ قدرت ایزدی نے خلافت مجھے ہی سپرد کر دی۔ تو اب مسیح موعود کے احکام کے ماتحت میرا ہی حکم ماننا ضروری تھا۔ اور میں نے حالات وقت کے ماتحت مناسب فیصلہ کر دیا ۔ ایک خلیفہ کا حکم اس وقت تک چلتا ہے جب تک وہ ۔ اس کے بعد جو ہو اس کا حکم ماننے۔ ماننے کے قابل ہے۔ یہ مسئلہ آ۔ آپ نے نیا نکالا۔ نے نیا نکالا ہے کہ ہر ایک خلیفہ کا حکم ہمیشہ کے لئے قابل عمل ہے یہ درجہ تو صرف انبیاء کو حاصل ہے کہ ان کے احکام اس وقت تک جاری رہتے ہیں ۔ جب تک اللہ تعالٰی کی طرف سے وحی پا کر کوئی نیا نبی انہیں منسوخ نہ کرے۔ خلفاء کی یہ حیثیت تو صرف آپ کی ایجاد ہے صحابہ ابو بکر عمر ، عثمان ، علی رضی اللہ عنھم میں سے ہر ایک کے فرمانبردار تھے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک بعد میں آنے والے نے اپنے سے پہلے کے چند احکام کو منسوخ کیا یا بعض انتظامات کو بدل دیا لیکن کسی صحابی نے نہ کہا کہ ہم تو پہلے کے فرمانبردار ہیں اس لئے آپ کا حکم نہ مانیں گے حضرت عمرؓ نے خالد کو جو حضرت ابو بکڑ کے مقرر کردہ سپہ سالار تھے معزول کر دیا۔ ان پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ حضرت آپ تو ابو بکر کی بیعت کر چکے ہیں ان کے مقرر کردہ کمانڈر کو کیوں معزول کرتے ہیں اے کاش کہ ہر اعتراض کے پیش کرنے سے پہلے یہ غور بھی کر لیا جایا کرے کہ ہم کیسی بے وقعت باتوں سے اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ پھر سنئے اللہ تعالی نے مجھ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہونے دیا جو پہلوں پر نہ پڑتا ہو ۔ حضرت مسیح موعود کی وفات پر جو پہلا اجلاس مجلس معتمدین کا ہوا تھا۔ اور جس میں آپ بھی شریک تھے۔ اس میں مولوی محمد علی صاحب کی ایک تحریک پیش ہو کر جو فیصلہ ہوا اس کے الفاظ یہ ہیں۔ درخواست مولوی محمد علی صاحب کہ کچھ مساکین کا کھانا حضرت اقدس نے لنگر خانہ سے بند کر کے ان میں سے بعض کے لئے لکھا ہے کہ مجلس انتظام کرے پیش ہو کر قرار پایا کہ اب حسب احکام حضرت خلیفة المسیح الموعود علیہ السلام لنگر کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔ اس لئے اس کاغذ کو