انوارالعلوم (جلد 2) — Page 315
2 انوار العلوم جلد ۲ ۳۱۵ القول الفصل ذمہ داری شاید یہ سمجھ لی ہے کہ ایک شخص مالدار ہو یا ڈگری یافتہ ہو۔ میرے خیال میں ذمہ داری کچھ اور ہی چیز ہے اور ہر ایک مسلمان خدا کے نزدیک ذمہ دار ہے خواہ وہ گدڑی پوش ہو یا تخت شاہی پر بیٹھا ہوا ہو۔ میں احمدی ہونے کے لحاظ سے جس طرح ایک امیر سے امیر مبائع کو سلسلہ کے کاموں کا ذمہ دار خیال کرتا ہوں۔ اسی طرح اس شخص کو جسے دو تین وقت کا فاقہ ہو۔ اور جس کے تن پر پھٹے ٹے ہوئے کپڑے ہوں۔ آپ اپنی جماعت کے لوگوں میں خواہ کسی قدر فریق ہی بنائیں۔ میں اپنے مبالغین میں ہر گز کوئی فرق نہیں پاتا خلیفہ ایک وجود ہے۔ جس کو اللہ تعالی انتظام کے لئے کھڑا کرتا ہے۔ اس امر کو چھوڑ کر خود خلیفہ جماعت میں سے ایک معمولی فرد ہے اور اللہ تعالٰی کے قائم کردہ اصولوں کا ایسا ہی پابند ہے جیسے اور ممبر اور جس طرح اور لوگ سلسلہ احمدیہ کے افراد ہیں وہ ان افراد میں سے ایک فرد ہے ان کا بھائی ہے۔ انہیں کا ہے۔ اسے اس انتظام سے علیحدہ ہو کر جو جماعت کے قیام کے لئے اس کے سپرد کیا گیا ہے اور کوئی فضیلت نہیں اگر وہ غریب سے غریب آدمی کے حق کو دباتا ہے تو وہ خدا کے حضور جوابدہ ہے۔ پس اس جماعت کا ہر ایک فرد زمہ دار ہے۔ اور اسلام کسی کو ذلیل نہیں کرتا۔ حضرت عمر کے وقت ایک حبشی غلام نے ایک شہر سے صلح کرلی تھی۔ باوجود افسروں کی ناراضگی کے حضرت عمر نے اس کو قائم رکھا اور باوجود اس کے کہ اس میں بعض جگہ انتظامی دقتیں پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ مگر میں کہتا ہوں اس واقعہ سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے کہ اسلام خلیفہ کو اس مقام پر کھڑا کرتا ہے جہاں اس کی نظر میں سب مسلمان برابر ہوں۔ آپ ایک طرف تو یہ اصل مقرر کرتے ہیں کہ یہ دیکھنا چاہئے کہ بات کیسی ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس نے کی ہے اور کن خیالات سے کی ہے۔ لیکن آپ نے اس پر عمل تو نہ کیا جماعت کے ایک حصہ کو جو آپ کی اور میری طرح معزز ہے بے وجہ غیر ذمہ دار ردار قرار دے دیا۔ بے شک اگر بعض لوگوں کی بعض باتیں آپ کو پسند نہ آئی تھیں تو آپ کہہ سکتے تھے کہ فلاں فلاں باتیں ان کی غلط ہیں ان کو بند کیا جاوے یا ان کی اصلاح کی جائے۔ بجائے اس کے آپ ایک گروہ غیر ذمہ داروں کا قرار دے کر اس کی باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اسے بند کر دوں۔ مگر چونکہ میں سب کو ذمہ دار خیال کرتا ہوں۔ اس لئے اس مشورہ پر عمل کرنے سے معذور ہوں۔ ہاں اگر کوئی بات نا معقول ہو تو اس کے روک دینے کے لئے تیار ہوں۔ مگر خدا کی دی ہوئی طاقتوں کو زائل کرنا میرا کام نہیں۔ انہی متفرق باتوں میں سے جن کا مختصر جواب میں اس جگہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ایک یہ بھی