انوارالعلوم (جلد 2) — Page 314
انوار العلوم جلد ۲ ۳۱۳ القول الفصل غیبیہ سے مجھے اطلاع دے کر اس بات کو پایہ ثبوت کو پہنچایا کہ جس کام پر میں کھڑا کیا گیا ہوں وہ اس کی طرف سے ہے۔ خواجہ صاحب! آپ نے لکھا ہے کہ اگر آپ الہام سے مصلح موعود ہونے کا دعوی کریں تو میں پھر کچھ نہ بولوں گا۔ اگر آپ نے یہ بات سچ لکھی ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے مجھے بار بار بتایا ہے کہ میں خلیفہ ہوں اور یہ کہ وہ میرے مخالفوں کو آہستہ آہستہ میری طرف کھینچ لائے گایا : لائے گا یا تباہ کر دے گا۔ اور ہمیشہ میرے متبعین میرے مخالفوں پر غالب رہیں گے۔ یہ سب باتیں مجھے متفرق اوقات میں اللہ تعالٰی نے بتائی ہیں۔ پس آپ اپنے وعدہ کے مطابق خاموشی اختیار کریں اور دیکھیں کہ خدا تعالی انجام کار کیا د کھلاتا ہے۔ اگر مصلح موعود کے ہونے کے متعلق میرے الہام کی آپ قدر کرنے کے لئے تیار ہیں تو کیوں اس امر میں آسمانی شہادت کی قدر نہیں کرتے آپ خوب یاد رکھیں کہ یہاں خدمات کا سوال نہیں یہاں خدائی دین کا سوال ہے۔ اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے کہ خدمات کے متعلق میرا کوئی دعوی نہیں ۔ اللہ تعالٰی اگر مجھ سے کوئی خدمت لے لے تو یہ اس کا احسان ہو گا ورنہ میں کوئی چیز نہیں۔ میں اس قدر جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ اس جماعت کو پھر بڑھانا چاہتا ہے۔ میرا ایک بہت بڑا کام ہو گیا ہے۔ جماعت میں احساس پیدا ہو گیا ہے باقی حصہ بھی جلد پورا ہو جائے گا۔ اور احمد یہ جماعت بے نظیر سرعت سے ترقی کرنی شروع کرے گی۔ میں نے تو اس قدر احتیاط سے کام لیا ہے کہ آپ کے طریق تبلیغ کی بھی اس وقت تک مخالفت نہیں کی جب تک اللہ تعالٰی نے مجھے نہیں بتایا کہ یہ غلط ہے۔ پس میں آسمان کو زمین کے لئے نہیں چھوڑ سکتا۔ اور اللہ تعالی سے توفیق چاہتا ہوں کہ وہ مجھے ہمیشہ اپنی رضا پر چلنے کی توفیق دے۔ اور ہر قسم کی لغزشوں اور ٹھوکروں سے بچائے۔ آمین۔ غیر ذمہ دار لوگ خواجہ صاحب اپنے سارے مضمون میں اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ یہ سب فساد غیر ذمہ دار لوگ رذمہ دار لوگوں کا ہے۔ اور اس امر کی طرف بھی ! بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مجھے کچھ لوگ ورغلاتے رہتے ہیں۔ اور یہ لوگ امن نہیں ہونے دیتے۔ میں خواجہ صاحب کو اس معاملہ میں خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس لفظ کو میری جماعت کے لوگوں کی نسبت استعمال نہ کیا کریں۔ کیونکہ میں اس امر کا قائل نہیں کہ کچھ خاص لوگ سلسلہ کے ٹھیکیدار ہیں۔ خوب یاد رکھیں کہ ہر ایک وہ شخص جو مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے وہ ذمہ دار ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّة کیوں کر فرماتے ہیں کہ غیر ذمہ دار لوگ کیوں بولتے ہیں۔ انہی کا یہ سب فساد ڈالا ہوا ہے ۔ آپ نے عن رعيته پراب