انوارالعلوم (جلد 2) — Page 316
انوار العلوم جلد ۲ ۳۱۶ القول الفصل ہے کہ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر محمد علی اور اس کے دوست ایسے ہی ہیں جیسے تم خیال کرتے ہو۔ تو پھر مرزا کی نہ تعلیم درست نہ درست نه تربیت درست۔ اور پھر الزام لگاتے ہیں کہ یہ خیال تو شیعوں کے تھے کہ سب صحابہ سوائے چند اہل بیت اور صحابہ کے منافق تھے مگر میں پوچھتا ہوں کہ یہ خیال تو آپ کا ہے۔ آپ ستانوے فی صدی احمدیوں کو تو غلطی پر خیال کرتے ہیں منصوبہ باز خیال کرتے ہیں حضرت مسیح موعود کے کاموں کو تباہ کرنے والا بیان کرتے ہیں اور ایک بڑے حصہ کو اپنے اس مضمون میں کافر ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں پھر تعجب ہے کہ اس صورت میں آپ شیعوں کے متبع ہوئے یا ہم ۔ شیعہ بھی تو اکثر حصہ کو گندہ کہتے ہیں صرف چند کو پاک خیال کرتے ہیں۔ اور انہی کو ذمہ دار اور آنحضرت ا کا پیارا سمجھتے ہیں آپ کا بھی ایسا خیال ہے تو یہ اعتراض آپ پر پڑا یا ہم پر ؟ اور اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے چند دوستوں کے برا ہو جانے سے مرزا صاحب کی تعلیم پر بھی پانی پھر جاتا ہے تو کیوں احمدی جماعت کے کثیر حصہ سے کافر ہو جانے سے جیسا کہ آپ نے اپنے ٹریکٹ صفحہ ۴۶ پر صریح الفاظ میں لکھا ہے مرزا صاح ہے مرزا صاحب نا کام نہیں رہے۔ اگر کہو کہ ہم نے تو حدیث اور مسیح موعود کے فتوئی کے مطابق کہا ہے کہ چونکہ آپ لوگ غیر احمدی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اس لئے کافر ہو گئے۔ اپنی طرف سے تو بات نہیں کہی۔ تو میں بھی کہتا ہوں کہ ہم بھی جو فتوی لگاتے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث کے مطابق لگاتے ہیں۔ اور ہمار ا فتوی بھی آیت استخلاف کے ماتحت ہی ہے۔ پس اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو یہ بھی درست ہے۔ اور اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ ناکام گئے مگر یہ غلط ہے۔ ایسا نہیں ہوا مسیح موعود کامیاب گئے اور ہر طرح کامیاب گئے۔ جماعت کا اکثر حصہ اس راہ پر چل رہا ہے جس پر آپ نے ہیں جو سلسلہ چلایا تھا۔ ہاں کچھ لوگ الگ ہو گئے۔ بے شک آپ لکھتے ہیں کہ کیا وہ اکابر خراب ہو سکتے ہیں جو کے خادم تھے تو میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود کی وہ بات کیوں کر پوری ہوتی جو آپ نے الہام کی بناء پر لکھی تھی کہ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے۔ اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے ۔ پس مقام خوف ہے " (تذکرہ صفحہ ۵۳۹) اگر آپ کے خیال کے مطابق بڑے چھوٹے نہیں ہو سکتے تھے ۔ بلکہ اکابر معصوم عن الخطاء ہی سمجھے جانے کے لائق ہیں تو پھر اس عبارت کا کیا مطلب ہے۔ اس عبارت سے تو بالبداہت ثابت ہو جاتا ہے کہ اکابر کا چھوٹا ہو جانا بھی ممکن ہے بلکہ بعض چھوٹے کئے بھی جائیں گے۔ پس آپ اس دلیل سے کوئی فائدہ نہیں حاصل کر سکتے۔ خصوصاً جبکہ صحابہ نے آنحضرت ا کی وفات پر ان لوگوں کو جنہوں نے بیعت ابی بکڑ نہ کی تھی۔ اور جن میں سے ایک