انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 313

انوار العلوم جلد ۲ ۳۱۳ القول الفصل جاتی ہے اور جس تحریر کی طرف خواجہ صاحب اشارہ کرتے ہیں اس کے بعد کی وہ تحریر ہے جس میں حضرت خلیفہ اول نے میری نسبت لکھا ہے کہ میں اسے مصلح موعود موعود سمجھتا ہوں اور پھر اس کے بعد کا واقعہ ہے کہ آپ نے ایک بھری مجلس میں فرمایا کہ مسند احمد بن حنبل کی تصحیح کا کام ہم سے تو ہو نہ سکا میاں صاحب کے زمانہ میں اللہ تعالی چاہے تو ہو سکے گا۔ اور یہ جنوری ۱۹۱۴ء کی بات ہے۔ آخری بیماری سے ایک دو دن پہلے کی۔ پس آپ ان زبردست حملوں کی اشاعت سے ہر گز نہ چوکیں۔ کیوں اپنے ہاتھ سے موقعہ جانے دیتے ہیں شاید اسی سے آپ کو کوئی فائدہ پہنچ جائے مگر خوب یاد رکھیں کہ میرا معاملہ کسی انسان کی تعریف کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اگر حضرت خلیفہ اول کی وہ تحریریں میری تائید میں موجود نہ ہوتیں جو آپ کے پاس جس قدر خطوط ہیں ان کی نفی کر دیتی ہیں تو بھی مجھے خدا نے اس کام پر کھڑا کیا ہے ۔ نہ کہ کسی انسان نے میں کسی انسان کی تحریروں کا محتاج نہیں۔ خلافت خدا تعالی کے اختیار میں ہے جو انسانوں کے خیالات سے اندازہ لگا کر میری بیعت میں داخل ہوا ہے۔ وه نور را اپنی بیعت کو واپس لے لے۔ اور مجھے خدا پر چھوڑ دے میں مشرک نہیں ہوں۔ مجھے انسانوں کے خیالات کی پرواہ نہیں۔ خدا تعالٰی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے کامیاب کرے گا۔ پس میں اللہ تعالی کے فضل اور رحم کے ماتحت کامیاب ہوں گا۔ اور میرا دشمن مجھ پر غالب نہ آسکے گا۔ مجھے اللہ تعالٰی نے اپنی پوشیدہ در پوشیدہ حکمتوں کے ماتحت جن کو میں خود بھی نہیں سمجھتا۔ ایک پہاڑ بنایا ہے پس وہ جو مجھ سے ٹکراتا ہے اپنا سر پھوڑتا ہے۔ میں نالائق ہوں اس سے مجھے انکار نہیں۔ میں کم علم ہوں اس سے میں ناواقف نہیں۔ میں گنہگار ہوں اس کا مجھے اقرار ہے۔ میں کمزور ہوں اس کو میں مانتا ہوں۔ لیکن میں کیا کروں کہ میرے خلیفہ بنانے میں خدا تعالٰی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔ اور نہ وہ اپنے کاموں میں میرے مشورہ کا محتاج ہے۔ میں اپنے ضعف کو دیکھ کر خود حیران ہو جاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کیوں چنا۔ اور میں اپنے نفس کے اندر ایک بھی ایسی خوبی نہیں پاتا جس کی وجہ سے میں اللہ تعالی کے اس احسان کا مستحق سمجھا گیا مگر باوجود اس کے اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھے اللہ تعالی نے اس کام پر مقرر فرما دیا ہے۔ اور وہ میری ان راہوں سے مدد فرماتا ہے جو میرے ذہن میں بھی نہیں ہوتیں۔ جب کل اسباب میرے بر خلاف تھے جب جماعت کے بڑے بڑے لوگ میرے خلاف اعلان کر رہے تھے۔ اور جن کو لوگ بڑا خیال کرتے تھے وہ سب میرے گرانے کے درپے تھے اس وقت میں حیران تھا۔ لیکن سب کچھ میرا رب آپ کر رہا تھا۔ اس نے مجھے اطلاعیں دیں اور وہ اپنے وقت پر پوری ہو ئیں اور میرے دل کو تسلی دینے کے لئے نشان پر نشان دکھایا۔ اور امور