انوارالعلوم (جلد 2) — Page 304
انوار العلوم جلد ۲ ۳۰۴ القول الفصل ہے کہ کبھی غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہے کبھی مسلمان۔ یہ ایک بار یک مسئلہ ہے جو ہمارے میاں نے بھی نہیں سمجھا " (را تم مہر محمد خان مالیر کوٹلوی ثم قادیانی) باقی رہا یہ کہ میرا کوئی مضمون امر تسر میں چھپا۔ لیکن اس کی اشاعت حضرت خلیفہ اول نے روک دی۔ یہ ایک صریح جھوٹ ہے جو آپ تک پہنچایا گیا۔ میں نے سوائے اس مضمون کے جو تشعیر میں شائع ہوا اور کوئی مضمون اس موضوع پر نہیں لکھا۔ ہاں ! تشھید سے لے کر کسی نے الگ ٹریکٹ میں اسے شائع کرنا چاہا تھا۔ اسے حضرت خلیفہ اول نے روک دیا تھا۔ اور یہ فعل اس شخص کا تھا بھی نامناسب۔ کیونکہ یہ مضمون خاص جماعت کے لئے تھا۔ اور ایک رسالہ اور ایک اخبار میں شائع ہو کر اس کی جماعت میں کافی اشاعت ہو چکی تھی۔ اب اسکو الگ شائع کرنا خواہ مخواہ لوگوں کو جوش دلانا تھا۔ اور اسراف بھی۔ جب میں نے سنا کہ ایک شخص نے ایسا کیا ہے تو میں نے بھی اسے پسند نہیں کیا۔ پس وہ وہی مضمون تھا جسے تشھید میں حضرت کی اجازت سے شائع کیا گیا۔ بلکہ وہی مضمون تھا جس کی نسبت جب مشہور کیا گیا کہ اس پر حضرت ناراض ہیں تو میں نے دوبارہ پیش کیا کہ اگر آپ شرح صدر سے اجازت دیں اجازت دیں تب شائع کروں۔ تو اس پر حضور نے فرمایا کہ : فرمایا کہ میں منافق نہیں کہ منافقت سے اجازت دوں۔ کیا آپ کو میری بات پر اعتبار نہیں آیا۔ اس جواب کے بعد میں نے اسے شائع ہونے کے لئے دیا۔ اور وہ مضمون حضرت کی کتابوں سے لیا گیا ہے۔ میری تصنیف نہیں۔ اب ایک مسئلہ خلافت باقی رہ گیا ہے جس پر خواجہ صاحب نے بڑا زور دیا ہے۔ اور در حقیقت یہی ایک بڑی بنائے مخاصمت ہے۔ ورنہ ہم سے ان کو کچھ زیادہ پر خاش نہیں۔ خلافت کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ وہی باتیں ہیں جن کا مفصل جواب خلافت احمدیہ میں حضرت خلیفہ اول کے حکم کے ما تحت انجمن انصار اللہ نے دیا تھا۔ اب ایک طرف تو وہ مضمون ہے۔ جس کا خود خلیفہ اول نے حکم دیا اسے دیکھا اصلاح فرمائی اجازت دی۔ کیا اس کے مقابلہ میں آپ بھی کوئی ایسا مضمون خلافت کے خلاف پیش کر سکتے ہیں جسے حضرت خلیفہ اول نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو پسند فرمایا ہو۔ اور شائع کرنے کی اجازت دی ہو۔ تاکہ اس سے آپ کے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے کہ حضرت خلیفه اول شخصی خلافت کے قائل نہ تھے۔ میری اس سے یہ غرض نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی پسندیدگی سے خلافت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کیونکہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی پسندیدگی یا عدم پسندیدگی سے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ اصل فیصلہ وہی ہونا چاہئے جو اسلام اور مسیح موعود کے حکم کے ماتحت ہو۔ لیکن