انوارالعلوم (جلد 2) — Page 303
انوار العلوم جلد ۲ ۳۰۳ والقول الفصل دیکھوں گا کہ اللہ تعالی اس سے کیا سلوک کرتا ہے۔ ورنہ جھوٹ سے کیا فائدہ ۔ آپ نے اس طرح فرمایا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ تم کبھی غیر احمدیوں کو کافر کہتے ہو کبھی مسلمان۔ یہ ایک ایسا بار یک مسئلہ ہے کہ اسے کوئی نہیں سمجھتا۔ حتی کہ میاں صاحب بھی نہیں سمجھے۔ اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے نزدیک میں کفر کا مسئلہ نہیں سمجھا۔ بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے خیال میں میں اس بات کو نہیں سمجھا کہ کیوں آپ کبھی کافر کہتے ہیں کبھی مسلمان۔ اس میں کیا بھید ہے ؟ اور حتی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے خیال میں میں ہی وہ شخص تھا جسے اس مسئلہ کو سمجھنا چاہئے تھا۔ پس اس سے میرے مخالف کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس وقت جب آپ نے یہ کلمات فرمائے اور لوگ بھی موجود تھے ۔ اور میر موجود تھے۔ اور میں نے ان کی حلفی شہادت لے لی ہے جو میرے پاس موجود ہے۔ لیکن چونکہ اس وقت حضرت کی حالت نازک تھی۔ میں نے مناسب نہ سمجھا کہ اس بحث کو چھیڑا جائے ۔ اب ذیل میں وہ شہادت درج کی جاتی ہے : میں اور چند اور احباب اور حضرت میاں صاحب حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت نے اپنے سلسلہ کلام میں فرمایا کہ "کفر و اسلام کا مسئلہ جو بڑا مشکل سمجھا جاتا ہے گو لوگ مجھے کہتے ہیں کہ یہ کبھی مسلم کہتا ہے اور کبھی کافر لیکن خدا نے مجھے اس میں وہ سمجھایا ہے جو کسی کو نہیں سمجھ آیا ۔ حتی کہ میاں کو بھی سمجھ نہیں آیا اور میں خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ شہادت دیتا ہوں کہ حضرت خلیفتہ المسیح نے یہی فرمایا تھا۔ (محمد سرور) مندرجہ بالا بیان جہاں تک مجھے یاد ہے بالکل درست ہے۔ سوائے اس کے کہ مجھے کہتے ہیں کی بجائے آپ نے فرمایا تھا کہ لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ کبھی کافر کہتا ہے اور کبھی مسلمان"۔ (شیر علی) " مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت خلیفۃ المسیح نے ترجمہ قرآن شریف سننے کے وقت جو مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں فرمایا تھا کہ مجھ پر بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ کبھی میں (غیر احمدیوں کو) کافر بھی میں غیر احمد یوں کو) کافر کہتا ہوں اور کبھی مسلمان ۔ یہ دقیق مسئلہ ہے کسی نے نہیں سمجھا۔ حتی کہ میاں نے بھی نہیں سمجھا۔ یہ مسئلہ بھی احمدیوں میں صاف ہونے کے قابل ہے " (راقم محمد علی خان) حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت دریافت کرنے کے لئے یہ خاکسار حضور کے مکان پر حاضر ہوا دیکھا تو مولوی محمد علی صاحب ترجمۃ القرآن کے نوٹس سنا رہے تھے اور حضرت کے سرہانے جناب حضرت صاحبزادہ صاحب بیٹھے تھے کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ میرے متعلق جو اعتراض کیا جاتا