انوارالعلوم (جلد 2) — Page 305
انوار العلوم جلد ؟ ۳۰۵ القول الفصل " میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے مضمون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح بھی آپ کے اس خیال کے موید تھے ۔ اور آپ صرف ایک بزرگ ہونے کے لحاظ سے بیعت لیتے تھے نہ کہ خلیفہ کی حیثیت سے۔ لیکن یہ بات صریح غلط ہے۔ حضرت کی پہلی تقریر جو خلافت سے پہلے آپ نے کی موجود ہے۔ اور آپ لوگوں نے اس پر جو اعلان کیا وہ بھی موجود ہے۔ ان کو دیکھ کر کوئی انسان فیصلہ نہ کرے گا کہ حضرت خلیفہ المسیح مسئلہ خلافت کے قائل نہ تھے ۔ بلکہ یہ بھی فیصلہ نہ کرے گا کہ خود نہ خواجہ صاحب بھی قائل نہ تھے ۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح کو جب ؟ المسیح کو جب بیعت کے لئے کہا گیا۔ تو آپ نے کے۔ ایک تقریر فرمائی۔ جس کے بعض نقرات ذیل میں درج ہیں۔ موجودہ وقت میں سوچ لو کہ کیسا وقت ہے جو ہم پر آیا ہے۔ اس وقت مردوں بچوں عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔ اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کرلو (جن کے آپ نے ، آپ نے پہلے نام لئے تھے) میں تمہارے ساتھ ہوں"۔ پھر آگے فرماتے ہیں " میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے (حضرت مسیح موعود کے دفن ہونے) سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے " اب ان دونوں فقرات سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ کیا یہ کہ آپ خلافت کی بیعت کے لئے کھڑے ہوئے تھے یا اپنے زہد و القاء کی وجہ سے آپ نے دوسرے پیروں کی طرح بیعت لی تھی۔ یہ فقرات دلالت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے دفن ہونے سے پہلے آپ چاہتے تھے کہ کل جماعت ایک خلیفہ کے ماتحت ہو۔ اور اس میں وحدت پیدا ہو جائے۔ نہ کہ علم و تقویٰ کی وجہ کی وجہ سے بیعت لینے کے لئے آگے بڑھے تھے۔ پھر آپ نے جو اعلان حضرت خلیفہ اول کی بیعت اول کی بیعت پر شائع کیا۔ اس میں آپ نے آ کیا۔ اس میں آپ نے لکھا ہے کہ مطابق الوصیت آ۔ آپ کی بیعت کی گئی ہے اور سب جماعت آ۔ آپ کی خدمت میں بیعت کے خطوط لکھ دے ۔ اب فرمائیے کہ کیا آپ کا یہ اعلان یہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ نے صرف بزرگ سمجھ کر بیعت کی تھی۔ الوصیت کے کون سے فقرات میں یہ بات درج ہے کہ اگر کوئی نیک آدمی جماعت میں ہو تو میری ساری جماعت اس کی بیعت کرے۔ اور اس کا فرمان سب جماعت کے لئے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود و مهدی معہود علیہ الصلواۃ والسلام کا تھا۔ " بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی وفات سے جماعت میں ایسے شدید تفرقہ کا خطرہ تھا کہ اس وقت سوائے ایک خلیفہ کے ذریعہ جماعت کو رکھنے کے آپ کو اور کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آتی تھی۔ اور خلافت کی مخالفت کے خیال بعد کے ہیں۔ یا اس وقت شدت غم میں دب گئے تھے۔ کیونکہ حضرت خلیفہ اول نے اس وقت فرما دیا تھا کہ بیعت کے بعد میری ایسی فرمانبرداری کرنی ہوگی جس