انوارالعلوم (جلد 2) — Page 277
انوار العلوم جلد ۲ r ۲۷۷ القول الفصل وہ جو نہ شریعت لاتے ہیں۔ اور نہ ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے۔ لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔ اور سوائے آنحضرت ا کے کوئی نبی اس شان کا نہیں گذرا کہ اس کی اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے ۔ لہذا اس قسم کی نبوت صرف اس مکمل انسان کے اتباع میں ہی پائی جاسکتی تھی۔ اس لئے پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں۔ اور اس امت میں سے بھی صرف مسیح موعود کو اس وقت تک یہ درجہ عطا ہوا ہے۔ اور پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہ ملنے کی یہ وجہ نہیں کہ پہلے حقیقی نبی آسکتے تھے۔ اس لئے ایسے نبی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بلکہ پہلے نبیوں میں سے کوئی نبی ایسا استاد نہیں ہوا جس کی شاگردی میں نبوت مل سکے اس لئے پہلے نبیوں کی امت کے لوگ ایک حد تک پہلے نبی کی تربیت کے نیچے ترقی پاتے پاتے رک جاتے تھے اور پھر اللہ تعالی ان کے دلوں پر نظر فرماتا تھا اور جن کو اس قابل پاتا کہ وہ نبی بن سکیں ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا اور براہ راست نبی بنا دیتا لیکن ہمارے آنحضرت ا کو اللہ تعالی نے ایسے بلند مقام پر کھڑا کیا اور آپ نے استادی کا ایسا اعلیٰ درجہ حاصل کر لیا کہ آپ اپنے شاگردوں کو اس امتحان میں کامیاب کراسکتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بعض لوگ خود ایم اے ہوتے ہیں لیکن ان کی لیاقت ایسی اعلیٰ نہیں ہوتی کہ ایم اے کی جماعت کو پڑھا سکیں اور بعض ایم اے ایسے لائق ہوتے ہیں اور ان کا علم اور درجہ استادی ایسا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ وہ ایم اے کی جماعت کو خوب پڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح پچھلے نبیوں کی مثال سمجھ لو وہ اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے بزرگ تھے نبی تھے۔ لیکن ان میں سے ایک نے بھی آنحضرت کی عظمت کے مقام کو نہیں پایا۔ اس لئے ان کے مدرسہ کا آخری امتحان نبوت نہ تھا بلکہ ولایت تھا پھر نبوت بلا واسطہ موہت سے ملتی تھی لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو ایسا درجہ استادی ملا کہ آپ کے مدرسہ کو کالج تک بڑھا دیا گیا اور آپ کی شاگردی میں انسان نبی بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر آپ سے پہلے نبیوں میں سے کوئی ایسا استاد کامل ہو جاتا تو وہی خاتم النبین ہوتا ہو تا کیونکہ جس استاد کی شاگردی میں نبوت حاصل ہو سکتی ہو اس کے بعد کسی اور استاد کی ضرورت نہ تھی کیونکہ نبوت کے بعد اور کوئی انعام نہیں۔ اسی طرح اگر قرآن کریم سے پہلے کوئی اور کتاب ایسی کامل ہوتی کہ اس پر چل کر انسان نبی بن سکتا تو وہ دنیا کی آخری کتاب ہوتی۔ کیونکہ اس کتاب کے بعد اور کسی کتاب کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جو کتاب نبی بنا سکتی وہ کامل ترین کتاب ہوتی اور کامل ترین کے بعد اور کسی کتاب کی حاجت نہ تھی۔ پس پہلے بلا واسطہ غیر تشریعی نبی اس لئے آتے تھے کہ اس وقت تک کوئی نبی خاتم النبین ہونے کے لائق نہ تھا۔ اور کوئی کتاب خاتم الکتب ہونے