انوارالعلوم (جلد 2) — Page 278
انوار العلوم جلد ۲ ۲۷۸ القول الفصل יו کریم کے درجہ پر نہ تھی وہ آنحضرت ﷺ ہی تھے جن کی نسبت فرمایا گیا کہ دَنَا فَتَدَلَّى ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی (النجم : ۱۰) وہ آپ ہی تھے جن کی نسبت فرمایا گیاکہ قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعَانِ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (الاعراف:۱۵۹) پھروہ قرآن ہی ایک کتاب ہے جس کی نسبت فرمایا گیا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ:۴) اور قرآن ہی ایک کتاب ہے جس کی نسبت فرمایا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر: ۱۰) پس ضرور تھا کہ جب وہ نبی اور وہ کتاب آجائے جس کی شاگردی میں اور جس پر عمل کر کے انسان نہیں ہو سکتا ہو تو اس نبی کو خاتم النبین بنا دیا جائے اور اس کتاب کو خاتم الكتب قرار دیا جائے اور یہی بچے معنی ہیں خاتم النبین کے ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں و نُؤْمِنُ بِأَنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِي رَبِّي مِنْ فَيْضِهِ وَأَظْهَرَهُ وَعْدَهُ ( مواهب الرحمن صفحه ۱۹، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۸۵) یعنی ہم مانتے ہیں کہ آپ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی کہ جس کی تربیت آپ کے فیض سے ہوئی۔ اور جس کو آپ کے وعدہ نے ظاہر کیا۔ پس علی اور بروزی نبوت کوئی گھٹیا قسم کی نبوت نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو مسیح موعود کس طرح ایک اسرائیلی نبی کے مقابلہ میں یوں فرماتے کہ :- ۱۹ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے بلکہ یہ نبوت اس شخص کی عزت میں ایک شمتہ بھر بھی فرق کرنے کے بغیر جس کو یہ نبوت عطا ہو آنحضرت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے اور بجائے ظلی نبی کی عظمت کو حقیقی نبیوں سے کم کرنے کے اس کا مقصد یہ ہے کہ آنحضرت کو سب نبیوں سے بڑا ثابت کرے۔ پس یہ مت خیال کرو کہ حضرت مسیح موعود کو چونکہ ظلی نبوت ملی اس لئے آپ کا معاملہ پہلے نبیوں سے مختلف ہے نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ آپ کو نبوت حقیقی اس لئے نہیں ملی کہ اب براہ راست موہبت کی ضرورت نہ تھی بلکہ دنیا میں وہ استاد ظاہر ہو چکا تھا جو اپنے علم اور عقل کے زور سے اعلیٰ سے اعلیٰ امتحانوں میں لوگوں کو پاس کر اسکتا تھا۔ اور الٹی یونیورسٹی کی تعلیم ایسی اعلیٰ پیمانہ پر ترقی پا چکی تھی اور قرآن کریم جیسی ہر زمانہ کے لئے یکساں مفید کتاب تیار ہو چکی تھی اس لئے اب پرائیویٹ امتحان سے دنیا کو روک دیا گیا لیکن کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس نے کالج میں پڑھ کر امتحان پاس کیا وہ اس سے او ادتی ہے جس نے پرائیویٹ