انوارالعلوم (جلد 2) — Page 276
انوار العلوم جلد ۲ ۲۷۶ القول الفصل دوں گا۔ اگر اس نے آپ کو یہ واقعہ بتا دیا تھا تو پھر آ۔ آپ کو یہ واقعہ بتا دیا تھا تو پھر آپ نے ایسی جرأت کیوں کی کہ جھوٹے اقوال کو میری طرف منسوب کیا۔ اور اگر اس نے آپ سے یہ بیان نہیں کیا تو آپ مرزا یعقوب بیگ صاحب سے اس کا جواب دلوا دیں۔ ممکن ہے آپ یہ کہہ کر ٹال دیں کہ خیر مرزا صاحب سے غلطی ہو گئی۔ اور مجھ سے بھی سہو ہو گیا۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ کیا شرافت اس بات کی مقتضی نہیں کہ جو غلط الزام ڈاکٹر صاحب موصوف نے مجھ پر لگایا تھا۔ اس کی تردید بھی اسی قلم سے کرتے جس سے انہوں نے حملہ کیا تھا۔ اور اگر وہ بچے تھے تو میری تحریر پیش کرتے یا اگر خود سنا تھا تو حلف اٹھاتے ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس بات کو دبا گئے کہ خود آپ کے سامنے بھی وہ واقعہ بیان نہیں کیا تاکہ آپ بے فائدہ اپنے ٹریکٹ کے بہت سے صفحات کو اس فیصل شدہ مسئلہ کی بحث میں سیاہ نہ کرتے ۔ خواجہ صاحب بار بار دلائل پر زور دیتے ہیں لیکن میں پوچھتا ہوں کہ دلائل کس چیز کا نام ہے۔ ایک شخص جو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود کے معتمدین میں سے ایک معتمد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک بات بیان کرتا ہے اور بیان ہی نہیں کرتا اس کا اعلان کرتا ہے اور پھر تحریر میں اعلان کرتا ہے لیکن جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ بات کسی تحریر میں ہے یا کس تقریر میں ایسا بیان ہوا ہے تو وہ نہ تحریر پیش کرتا ہے اور نہ اپنی سماعت کی حلفی شہادت دیتا ہے۔ اور اس کے دوست برابر اس غلط بیانی کو پھیلا رہے ہیں تو اب وہ کون سا طریق ہے جس سے فیصلہ ہو سکے ؟ آپ ہی ان کو تین باتوں میں سے ایک پر مجبور کریں یا تو وہ میری تحریر پیش کریں یا اپنی سماع کو حلف سے مؤکد کر کے ( جیسی حلف حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں لکھی ہے) شائع کریں یا یہ اعلان ک یہ اعلان کریں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں اپنے بیان کو را اپنے بیان کو واپس لیتا ہوں۔ اس کے سوا اور ا کون سا طریق فیصلہ ہے ؟۔ سماعت میں پھر بڑے زور سے اعلان کرتا ہوں جیسا کہ پہلے متعدد بار اعلان کر چکا ہوں کہ میں مرزا صاحب کو نبی مانتا ہوں۔ لیکن نہ ایسا کہ وہ نئی شریعت لائے ہیں۔ اور نہ ایسا کہ ان کو آنحضرت اللہ کی اتباع کے بغیر نبوت ملی ہے۔ اور ان معنوں سے آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ ہاں اگر حقیقی نبی کے یہ معنے ہوں کہ وہ نبی ہے یا نہیں تو میں کہوں گا کہ اگر حقیقی کے مقابلہ میں نقلی یا بناوٹی یا اسمی نبی کو رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ بناوٹی نقلی یا اسمی نہیں مانتا۔ میں غیبوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ ایک جو شریعت لانے والے ہیں دوسرے جو شریعت تو نہیں لاتے لیکن ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے۔ اور کام وہ پہلی امت کا ہی کرتے ہیں۔ جیسے سلیمان زکریا یحییٰ علیہم السلام اور ایک