انوارالعلوم (جلد 2) — Page 141
انوار العلوم جلد ۲ ۱۴۱ تحفة المملوک نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبیاء : ٢٥) یعنی کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو روز بروز کناروں کی طرف سے کم کرتے آتے ہیں پس کیا اس بات کے باوجود وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ غالب ہو جائینگے یعنی جبکہ روز بروز اسلام ترقی کر رہا ہے اور وہ کم ہو رہے ہیں تو پھر کیونکر خیال کر سکتے ہیں کہ وہ غالب ہو جائینگے پس اسی سنت کے ماتحت مسیح موعود کی جماعت کا معاملہ ہے کہ ہر روز وہ ترقی کر رہی ہے اور ایک شخص سے ترقی کر کے ہر علاقہ اور ہر ملک میں اسکے ماننے والے پیدا ہو گئے ہیں اور یہ ترقی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بہت جلد اس جماعت کے ہاتھوں سے اسلام کو دیگر ادیان پر غلبہ ہو جائے گا انشاء اللہ تعالی۔ پس مسیح موعود کی اندرونی اصلاح کا یہ کام ہے کہ آپ نے ایک زبردست جماعت قائم کردی ہے جو تقویٰ اور طہارت میں ایک نمونہ ہے اور دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ جہاں کوئی شخص احمدی ہوتا ہے اسکا رنگ ہی بدل جاتا ہے اور اسکے اندر ایسی اصلاح پیدا ہو جاتی ہے کہ اسکی پہلی زندگی کا اگر نئی زندگی سے مقابلہ کیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے اور ہزاروں ہیں جو اخلاص میں ترقی کرتے کرتے صحابہ کا نمونہ ہو گئے ہیں اور دین کے لئے اپنی جان اور اپنا مال اور اپنا وطن اور اپنے عزیز و رشتہ داروں کی قربانی انکی نظروں میں حقیر ہے دنیا کے لوگوں کی نظروں میں وہ غریب اور کمزور ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور انکو ایسی عظمت حاصل ہے کہ انکو دکھ دینے والے کبھی سکھ نہیں پاتے اور جو شخص انکو ستاتا ہے وہ ضرور ذلت و رسوائی کا منہ دیکھتا ہے یا سنت اللہ کے ماتحت اگر ایک قلیل حصہ اس جماعت کا بھی کمزور ہو اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم سے فائدہ نہ اٹھا سکا ہو تو وہ اور بات ہے اور کسی حصہ کا کمزور ہونا اس سلسلہ کی صداقت کے منافی نہیں کیونکہ کمزور آدمی ہر جماعت میں موجود ہوتے ہیں حتی کہ صحابہ میں بھی تھے اور آنحضرت ا کی زندگی کے آخری ایام تک ایک گروہ منافقین کا موجود تھا پس ایک قلیل گروہ کو چھوڑ کر اس جماعت پر اللہ تعالی کے خاص فضل ہیں۔ اور جناب خیال کر سکتے ہیں کہ جو لوگ روزانہ تازہ بتازہ نشانات کو دیکھیں گے اور اللہ تعالٰی کی قدرتوں کا ایسا معائنہ کریں گے کہ گویا خدا سامنے نظر آگیا انکا ایمان کیسا مضبوط ہو گا؟ اور وہ اخلاص انا میں کسی قدر ترقی کر جائیں گے۔ ایک چور کبھی پولیس مین کی موجودگی میں چوری نہیں کرتا پس جن لوگوں کو علم ہو ہو جائے جائے اور وہ اپنی آنکھوں سے اللہ تعالی کی زبر دست قدرتوں کا معائنہ کرلیں وہ کب گناہوں کے قریب جاسکتے ہیں اور ان کے دلوں میں دنیا کی حرص و آز کب باقی رہ سکتی ہے۔ ان کے