انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 140

انوار العلوم جلد ۲ اسلام کو قبول کرلے گا۔ ۱۴۰ تحفة الملوك عرض کہ حضرت مسیح موعود نے تمام مذاہب پر متفقہ طور سے اور فردا فردا اس رنگ میں حجت قائم کی ہے کہ اب ان میں سے کوئی بھی اسلام کے مقابلہ میں نہیں ٹھر سکتا اور حقیقی معنوں میں اسلام کو دوسرے ادیان پر غلبہ حاصل ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد وہ دن پھر آ رہے ہیں کہ جب دوبارہ آیت يَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللهِ أَفْوَاجًا کا وعدہ پورا ہو گا۔ انشاء الله تعالٰی ۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے مسیحیت کا دعوی کیا اور اس دعوے کے بعد بجائے غضب الہی کا مورد بننے کے اس نے اس کام کو پورا کر کے دکھا دیا جس کے لئے مسیح کی بعثت ہوئی تھی تو کیوں اسکے دعوے کی صداقت کو قبول نہ کیا جائے اور جب اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہو چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے واقعات سے جو اسلام کی عزت کا موجب ہیں آنکھیں بند کر کے یہی کہا جائے کہ نہیں ابھی آگے کوئی اور زمانہ آئے گا جبکہ یہ وعدے پورے ہونگے جبکہ مرزا صاحب کی ذات سے مسیح موعود کا کام پورا ہو گیا ہے تو مانناپڑتا ہے کہ وہی مسیح موعود ہیں۔ یہ کام تو بیرونی حملوں کے دفعیہ کے متعلق تھا اب میں اندورنی اصلاح کا ذکر کرتا ہوں کہ آپ نے اندورنی اصلاح کیا کی؟ لیکن میں لمبی تفصیلات میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ اگر میں ان تمام غلطیوں کے ازالہ کا ذکر کروں جو مختلف فرق اہل اسلام میں پائی جاتی تھیں تو یہ مضمون بہت لمبا ہو جائیگا اس لئے میں مختصر اسقدر عرض کر دیتا ہوں کہ آپ نے قرآن کریم کی اصلی غرض اور مقصد سے مسلمانوں کو آگاہ کیا اور قدیم سنت اللہ کے ماتحت باوجود علماء کی سخت مخالفت اور گندے سے گندے مقدمے بنانے کے اللہ تعالی نے آپکو فتح دی اور آپ نے ایک جماعت قائم کر دی جواب بہت بڑی تعداد تک پہنچ گئی ہے او ہے اور پنجاب وہندوستان کے ہر گو ب وہندوستان کے ہر گوشہ میں حضرت مسیح موعود کے ماننے والے موجود ہیں بلکہ ہندوستان سے نکل کر اب عرب ، شام ، چین ، مصر ، افریقہ اور انگلستان تک اس جماعت کا اثر پھیل گیا ہے اور غیر ممالک کے لوگ بھی اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں گو میں تعلیم کرتا ہوں کہ ابھی غیر ممالک میں اس فرقہ کی طرف بہت کم توجہ ہوئی ہے لیکن اسکی یہ وجہ ہے کہ بہت قلیل عرصہ سے ہم نے غیر ممالک میں تبلیغ کا کام شروع کیا ہے مگر یہ تو اللہ تعالی کی سنت ہے کہ ابتداء میں دین نہایت آہستگی سے بڑھتا ہے اور قلیل تعداد سے کسی فرقہ کی صداقت میں شک نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ فرقہ ترقی کر رہا ہے یا گھٹ رہا ہے چنانچہ اللہ تعالی نے کفار عرب کے اس قسم کے ایک اعتراض کے جواب میں فرمایا ہے کہ أَفَلَا يَرُونَ أَنَّا نَاتِي الْأَرْضَ