انوارالعلوم (جلد 2) — Page 142
انوار العلوم جلد ۲ ۱۴۲ تحفة الملوک دلوں سے تو تمام میل دھوئی جائیگی اور وہ ایسے ہو جائینگے جیسے حمام سے تازہ نہا کر نکلنے والا۔ سوخدا تعالی کا شکر ہے کہ مسیح موعود کی دعاؤں اور کوششوں کا نتیجہ دن بدن زیادہ سے زیادہ کامیابی کی شکل میں نکل رہا ہے۔ میں اس جماعت کے ایک شخص کا مختصر حال جناب کو بتا تا ہوں جس سے جناب کو معلوم ہو جائیگا کہ کس طرح خدا تعالی نے اس جماعت کے مخلصین کے دلوں کو مضبوط کر دیا ہے۔ افغانستان کے ایک بزرگ جن کا نام سید عبد اللطیف تھا اور جو وہاں ایسے معزز تھے کہ امیر حبیب اللہ خان صاحب کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی حضرت مسیح موعود کا ذکر سنکر قادیان تشریف لائے اور یہاں سے جب واپس گئے تو انکی کابل میں سخت مخالفت ہوئی اور امیر صاحب کو علماء کے شور سے مجبور ہو کر انکو نظر بند کرنا پڑا انہوں نے سب علماء کو چیلنج دیا کہ وہ میرے ساتھ حضرت مسیح موعود کے دعوے پر بحث کر لیں لیکن کسی کو یہ جرأت نہ ہوئی آخر سب علماء نے آ۔ سب علماء نے آپ پر سنگسار کئے جانیکا فتوی دیا اور امیر صاحب نے بار بار آپ کو کہا کہ آپ ظاہر ا طور پر ہی اس عقیدہ کو ترک کر دیں لیکن انہوں نے نہ مانا آخر سنگساری کے وقت پھر امیر صاحب نے کہا مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ یہ دن تو میرے لئے عید کا دن ہے آپ مجھے کس طرف بلا رہے ہیں۔ میں تو خدا تعالی کے عہد کو پورا کر رہا ہوں اور جب انہوں نے کسی صورت سے حق کا انکار نہ کیا تو نہایت بے رحمی سے انہیں سنگسار کیا گیا مگر پتھروں کی بوچھاڑ کے وقت انہوں نے ایک ذرہ بھر بھی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔ اس واقعہ سے جناب معلوم کر سکتے ہیں کہ مسیح موعود نے کیسا ایمان اپنی جماعت کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے اور جہاں کے دلوں میں نہیں جو جہالت کی وجہ سے اس قسم کے کاموں کے لئے تیار ہو جاتے ہیں بلکہ سید عبد اللطیف جیسے علماء کے دلوں میں جو ہر ایک امر کو سوچ سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ اس عام اصلاح کے علاوہ میں ایک خاص امر کو اس جگہ ضرور بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعود کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداری حکومت کا شامل کرنا ہے آپ نے قریباً اپنی گل کتب میں اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ جس گورنمنٹ کے ماتحت رہیں اس کی پورے طور پر فرمانبرداری کریں اور یہاں تک لکھا کہ جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور انکے احکام کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں اور یہ ایک ایسی مفید اصلاح ہے کہ اسکے ذریعہ آپ نے گویا کل دنیا پر احسان کیا ہے اور روزمرہ کے فسادوں اور جھگڑوں سے اور ہر قسم کی بغاوت سے امن دیدیا ہے اور