انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 134

انوار العلوم جلد ۲ ۱۳ تحقة الملوك دنیاوی حکومتیں سب سے زیادہ اس مجرم پر ناراض ہوتی ہیں جو جھو ٹا عہدہ دار بن جاتا ہے اور پبلک کو دھوکا دیکر لوٹتا ہے۔ ایسا شخص کبھی بے سزا نہیں چھوڑا جا تا بلکہ اسے فورا پکڑا جاتا ہے اور جناب تو اس مسئلہ کو دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جھوٹا حاکم بن جائے اور اس کی خبر نہ رکھی جائے تو حکومت کے سب کل پرزے کس طرح ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور کیونکر سب انتظام حکومت درہم برہم ہو جاتا ہے پس عقل سلیم بھی کبھی اجازت نہیں دیتی کہ ایک مفتری کو اس قدر عرصہ تک مہلت دی جائے کہ الہامات کے شائع کرنے کے بعد وہ آنحضرت ا سے بھی زیادہ عمر پا جائے پس حضرت مرزا صاحب کا اس قدر طویل عرصہ تک زندہ رہنا بھی اسی طرح آپ کی سچائی کی دلیل ہے جیسے کہ آیت لو تقول ہمارے آنحضرت ا کے صدق دعوی پر دلیل تھی۔ اس کے بعد میں ایک اور عظیم الشان نشان کی طرف جناب کی توجہ کو منعطف کراتا ہوں جو حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا ہے اور وہ ایسا نشان ہے کہ جس کے بعد آپ کی صداقت میں کسی کو شک کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ سوا اس کے جسکی نسبت درگاہ ایزدی سے غاوت کا فیصلہ ہو چکا ہو اور وہ یہ ہے ہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے وہ کام پورا کرا دیا ہے جس کے لئے آپ بھیجے گئے تھے یعنی اسلام کو دوسرے مذاہ مذاہب پر غالب کرنا۔ اکثر علماء اس بات پر متفق ہیں کہ آیت کریمہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (است: ۱۰) مسیح موعود کے زمانہ میں پوری ہو گی پس مسیح کا اصل کام اسلام کو مضبوط کرنا اور اسے دوسرے ادیان پر غالب کرتا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کام حضرت مسیح موعود کے ہاتھ سے پورا ہوا ہے یا نہیں۔ اگر پورا ہو گیا ہے تو آپ وہی مسیح موعود ہیں اور اگر پورا نہیں ہوا تو ہمیں کسی اور مسیح کی انتظار کرنی چاہئے لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سب ادیان پر غالب کر دیا ہے تو پھر ہر ایک صداقت پسند انسان کا فرض ہے کہ حق کو قبول کرلے اور مسیح موعود کے دامن کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرے۔ قبل اس کے کہ میں اس امر کو تفصیل کے ساتھ بیان کروں۔ یہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ انبیاء و مأمورین صرف ایک بیج بو کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور وہ بیچ ان کے بعد ترقی کر کے بہت بڑھ جاتا ہے اور اس کی شاخیں پھیل جاتی ہیں اور اس کی جڑھیں مضبوط ہو جاتی ہیں مثلاً حضرت مسیح ناصری جب دنیا میں تشریف لائے تو صرف چند آدمیوں نے ان کو مانا اور باقی قوم نے سخت