انوارالعلوم (جلد 2) — Page 135
انوار العلوم جلد ۲ ۱۳۵ تحفة الملوك مخالفت کی لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ ناکام گئے کیونکہ وہ ایسے اصول مقرر فرما گئے جن سے مدد لیکر آپ کے متبع دوسروں پر غالب ہو گئے۔ اسی طرح آنحضرت ا سب دنیا کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے مگر آپ کی وفات پر سب دنیا کو آپ کی با آپ کی بعثت کی خبر بھی نہ تھی۔ لیکن آپ اسلام کا بیج ایسی اعلیٰ درجہ کی زمین میں ہو گئے تھے کہ ایک صدی کے اندر اندر وہ ایسا بڑھا کہ اسوقت کی کل معلومہ دنیا میں پھیل گیا پس یہ ضروری نہیں ہوتا کہ مأمور کے سامنے ہی سب کام ہو جائے بلکہ وہ ایک نمونہ رکھا جاتا ہے اور بعد میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ اس امر کو بیان کر دینے کے بعد میں ایک مثال بتاتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالٰی نے مسیح موعود علیہ السلام کو طاقت عطا فرمائی کہ آپ نے اسلام کو سب ادیان پر غالب کر کے دکھا دیا ۔ لاہور جو پنجاب کا دار الخلافہ ہے اس میں ایک عظیم الشان جلسہ اس غرض سے قرار پایا تھا کہ اس میں سب مذاہب کے پیرو حاضر ہو کر اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں چنانچہ سب مذاہب کے قائم مقام اس جگہ جمع ہوئے اور ہر ایک مذہب کے قائم مقام نے اپنے مذہب کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کی بڑے بڑے رؤساء و امراء اس جلسہ میں شامل ہوئے اور تمام ملک کی نظریں اسکے نتیجہ پر لگ رہی تھیں اس موقعہ پر جہاں اسلام کی طرف سے چند اور لوگوں نے اپنے اپنے مضامین پیش کئے حضرت مسیح موعود نے بھی اپنا ایک مضمون ارسال کیا اور نہ صرف مضمون ارسال کیا بلکہ قبل از وقت ایک اشتہار کے ذریعہ سے عام اطلاع دیدی کہ میرا مضمون بالا رہے گا جناب سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفین کے جلسہ میں مضمون کا پڑھا جانا اور پھر ایک شخص کا اعلان کر دینا کہ میرا مضمون بالا رہے گا کیسا مشکل کام ہے مگر اللہ تعالیٰ کے کاموں کو کون روک سکتا ہے آپ کا مضمون پڑھا گیا لیکن چونکہ وقت تھوڑا تھا ختم نہ ہو سکا اس پر لوگوں کا یہ حال تھا کہ وہ یا تو اس مضمون کو سننے کے لئے تیار تھے یا جلسہ چھوڑ کر چلے جانے پر مستعد - آخر منتظمین جلسہ نے جن میں بڑے بڑے رؤساء اور سرکاری افسران شامل تھے فیصلہ کیا کہ آپ کے مضمون کے لئے اور موقع دیا جائے۔ مضمون کے ختم ہونے پر دو نے پر دوست و دشمن سب نے اقرار کیا کہ وہ مضمون سب مضامین پر پردوست در بالا رہا اور منتظمین جلسہ نے اس خوف سے کہ اس طرح اشاعت اسلام نہ ہو آئندہ اس قسم کے جلسے کرنے بند کر دیئے اس مضمون کو انگریزی میں ترجمہ کر کے شائع کیا گیا اور ولایت کے اخبارات نے بھی اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ یہ طریق اسلام کو پیش کرنے کا بالکل نیا ہے ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ تیرہ سو سال کے اندر اسلام کی تائید میں اس سے زیادہ زبردست کوئی کتاب