انوارالعلوم (جلد 2) — Page 117
انوار العلوم جلد ۲ 114 تحفة الملوك آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر کوئی شخص اصلاح عالم کریگا۔ ادھر جب احادیث پر نظر کرتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ا کا کامل مظهر مسیح موعود ہو گا کیونکہ اس کی نسبت آیا ہے کہ وہ آپ کی قبر میں داخل ہو گا پس ان سب باتوں کو ملا کر صاف ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود کے لئے مخصوص ہے اور اس صدی کا مجدد مسیح موعود ہی ہونا چاہئے جس کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ لا مَهْدِي إِلَّا عِيسَی (سنن ابن ماجه باب شدة الزمان) یعنی جس وقت مسیح آئیں گے تو وہی مہدی ہونگے ان کے علاوہ کوئی اور مہدی نہ ہو گا۔ پس یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے اور تیرھویں صدی کو گزرے تمیں سال ہو چکے ہیں اس وقت کسی مجدد کا ظاہر نہ ہونا بلکہ مسیح موعود کا نازل نہ ہونا اسلام کے لئے سخت تباہی کا موجب ہے اور اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ اس صدی کے سر پر کوئی مجدد نہیں آیا تو دشمنان اسلام کے لئے اسلام پر ہنسی کرنے کا ایک نادر موقعہ بہم پہنچتا ہے کیونکہ اس وقت علوم جدیدہ کی کثرت کی وجہ سے لوگوں کے خیالات دہریت کی طرف مائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں علوم کی اشاعت کی وجہ سے الہام وغیرہ کا دعوٹی کامیاب نہیں ہو سکتا اور ان دعاوی کے ساتھ آجکل کوئی شخص دنیا میں غالب نہیں آسکتا پس اس صدی کا ایسے شخص سے خالی جانا گو یا دشمن دین کے لئے ایک بڑی خوشی کا مقام ہو گا کیونکہ ان کے دعوے کا ثبوت بھی مل جائے گا کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ الہام اور تعلق باللہ سب ڈھکو ملا ہے اور آج سے پہلے جو لوگ قرب الہی کے دعوے کر کے اپنے پیرو پیدا کر لیتے رہے ہیں تو یہ جہالت کی وجہ سے تھاور نہ اسلام کا یہ دعویٰ اس صدی کے متعلق کیوں پورا نہ ہوا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد کا آنا ضروری ہے اگر ایسا ہوتا چلا آیا ہے تو اس صدی کے سر پر کیوں کوئی مجدد نہیں آیا معلوم ہوا کہ چونکہ اس وقت علوم کی اشاعت کی وجہ سے کوئی شخص اس دعوے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اس لئے کسی کو جرات نہیں ہوئی غرض کہ اگر یہ صدی مجدد سے خالی جائے تو نہ صرف اللہ تعالٰی پر وعدہ خلافی کا الزام آتا ہے بلکہ مسلمانوں کی رہی سہی طاقت بھی زائل ہوتی ہے کیونکہ دشمنوں کے ہاتھ میں ایک ایسا حربہ آجاتا ہے کہ جس سے محفوظ رہنے کا کوئی طریق نظر نہیں آتا اس زمانہ کا حال تو ایسا ہے کہ آج تک اگر کوئی مجدد نہ بھی ہوا ہوتا اور کوئی وعدہ بھی نہ ہو تا تب بھی اس زمانہ میں ضرور کوئی مصلح آنا چاہئے تھا تاکہ مخالفین اسلام کو دلائل نیرہ سے لاجواب کرے چہ جائیکہ مجددین کا سلسلہ چلتے چلتے اس زمانہ میں آکر رک جائے۔ مگر جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کو بھی مجدد سے خالی نہیں جانے دیا اور