انوارالعلوم (جلد 2) — Page 118
انوار العلوم جلد ۲ ۱۱۸ تحفة الملوك جیسا کہ آنحضرت ا سے وعدہ تھا اور زمانہ کا مطالبہ تھا اس شخص کو بھیج دیا جو اس زمانہ کے فتنہ کو دور کرنے کے قابل تھا اور اس کے وجود سے اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کر دیا اور دشمنان اسلام کو سخت رسو او ذلیل کیا۔ اور یہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے چنانچہ علاوہ ضروریات زمانہ کے جس قدر علامات مسیح موعود کے نزول کے لئے بیان کی گئی ہیں وہ سب پوری ہو چکی ہیں اور اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی مسعود کا زمانہ ہے مثلاً آنحضرت ا نے مہدی معہود کے لئے ایک زبر دست علامت یہ بیان فرمائی تھی کہ اس کے زمانہ میں چاند کی پہلی اور سورج کی درمیانی شب کو رمضان کے مہینہ میں خسوف کسوف ہو گا اور آپ نے اس علامت کی نسبت یہاں تک فرمایا کہ فرمایا کہ ایسا واقعہ پیدائش عالم سے اب سے اب تک نہیں ہوا حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں ا یہ ہیں إِنَّ لِعَهْدِيْنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لَا قَلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ (سنن دار قطني باب صفة صلوة الخسوف والكسوف و هیئتهما پس یہ ایک زبردست علامت ہے جس پر شیعہ اور سنی دونوں اقوام کا اتفاق ہے اور اسے پورے ہوئے آج قریباً میں سال ہو گئے ہیں بعض لوگ اس پیشگوئی پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس میں تو رمضان کی تیرھویں کو چاند گرہن اور اٹھائیسویں کو سورج گہن ہوا تھا مگر حدیث میں پہلی اور نصف کا ذکر ہے اس کے متعلق بھی میں جناب کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اعتراض ان لوگوں کے قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے کیونکہ اس حدیث میں خسوف قمر کا ذکر ہے اور قمر عربی زبان میں اس چاند کو کہتے ہیں جو تیسری رات سے اوپر کا ہو ۔ پہلی تاریخ کے چاند کو عربی میں ہلال کہتے ہیں نہ کہ قمر اور قمر کی یہ خصوصیت لسان العرب وغیرہ لغت کی بڑی کتابوں کے علاوہ چھوٹی چھوٹی کتب لغت میں بھی موجود ہے چنانچہ منجد میں بھی قمر کے یہ معنے لکھے ہیں الْقَمَرُ كَوْ كَبُ يَسْتَمِتُ نُورُ كَبُ يَسْتَمِتُ نُورُهُ مِنَ الشَّمْسِ فَيَنْعَكِسُ عَلَى الْأَرْضِ فَيَرْفَعَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهُوَ قَمَرُ بَعْدَ ثَلَاثِ لِيَالٍ إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ وَأَمَّا قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ هِلَال مگر افسوس ہے کہ اس وقت مسلمانوں سے عربی زبان کا علم بالکل اٹھ گیا ہے اور جہالت ان پر غالب ہو گئی ہے غرض کہ اس حدیث کے یہ معنے کرنے کہ چاند کو پہلی = رات اور سورج کو پندرھویں تاریخ گہن لگے گا عربی زبان اور سنت اللہ کے خلاف ہیں کیونکہ سنت اللہ بھی یہی ہے کہ چاند کو ہمیشہ تیرھویں چودھویں پندرھویں کو اور سورج کو ستائیسویں اٹھائیسویں اور انتیسویں کو گہن لگا کرتا ہے۔ اور پہلی رات سے مراد تیرھویں (۱۳) رات ہے۔ جو