انوارالعلوم (جلد 2) — Page 116
انوار العلوم جلد ۲ 114 تحفة الملوك من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تا کس نه گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری اور اسی تعلق کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں جس میں آنحضرت ا نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جائے گا کیونکہ یہ تو نا ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر کبھی کھودی جائے اور اس میں مسیح کو دفن کیا جائے یہ تو ایسی ہنک ہے کہ جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا اور جب تک کسی بچے مسلمان کی جان میں جان ہے وہ اس امر کو کبھی پسند نہیں کرے گا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے آنحضرت ﷺ کی قبر کو کھودا جائے ۔ پس یہ امر تو خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ آنحضرت ا کی قبر کھود کر مسیح کو دفن کیا جائیگا بلکہ اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ مسیح موعود آپ کے رنگ میں ایسار نگین ہو گا کہ اسے آپ کے ساتھ ہی رکھا جائے گا اور قبر اس مقام کا بھی نام ہے جہاں مرنے کے بعد ارواح انسانی رکھی جاتی ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے ثُمَّ أَمَاتَهُ فَا قبر : ( مبس: (۲۲) اور اگر معروف قبر اس آیت میں مراد لی جائے تو کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کیونکہ کروڑوں آدمی بجائے دفن ہونے کے جلائے جاتے ہیں پس اقبر سے یہی مراد ہے کہ اس مقام میں اسے رکھتا ہے جہاں مرنے کے بعد ارواح کو رکھا جاتا ہے اور یہی وہ قبر ہوتی ہے جو مومن و کافر کے لئے کشادہ ہو جاتی ہے یا تنگ ہو جاتی ہے۔ پس احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ مسیح موعود آنحضرت ا کا کامل متبع ہو کر آپ کے رنگ میں ہی رنگین ہو جائیگا اور اس وقت کے فتن کے مٹانے کے لئے کسی ایسے ہی وجود کی ضرورت ہے جو آنحضرت الی کا کامل بروز ہو ورنہ یہ فتنہ کسی معمولی انسان سے نہیں مٹ سکتا۔ جس عظمت کا کام ہو اسی عظمت کا آدمی اس کے پورا کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے پس اس زمانہ میں ایک عظیم الشان وجود کی ضرورت ہے جو اس فتنہ کو دور کرے کیونکہ اسلام کا اس وقت صرف نام رہ گیا ہے ورنہ ایمان مفقود ہے اور قرآن کریم کے لفظ محفوظ ہیں مگر معانی کے مستور ہو جانے کا سخت خطرہ درپیش ہے اور اس وقت اسلام کی وہی حالت ہو رہی ہے جو ابتدائے اسلام میں تھی کیونکہ گو اس وقت مسلمان موجود ہیں لیکن جس طرح آنحضرت کے ابتدائے ایام میں اسلام صرف چند اشخاص تک محدود تھا اسی طرح اب حقیقت اسلام دنیا سے مفقود ہے اور صرف چند کس تک محدود ہے پس اس زمانہ کی اصلاح بالکل اس کام سے مشابہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے کیا اور سورہ جمعہ سے بھی ثابت ہے کہ آنحضرت ا ایک دفعہ پھر دنیا کی ہدایت فرمائیں گے جس کے معنے یہ ہیں کہ کہ