انوارالعلوم (جلد 1) — Page 65
انوار العلوم جلد ا ۶۵ محبت الهی سے رب ہے پس اس آیت شریفہ میں ہے کہ سب تعریفیں اس کے لئے جو کہ سب جہانوں کا رب ہے۔ اب ربوبیت کی بھی دو قسمیں ہیں ایک تو ربوبیت جسمانی اور ایک روحانی - کیونکہ انسان دو چیزوں جس کو عوام الناس روح کہتے ہیں اور اس لئے روح کے نام سے ہی مرکب ہے ایک نفس ہے جس کو عوا مشہور ہے لیکن قرآن شریف روح کے معنے کلام کرتا ہے اور دوسری چیز جس سے کہ انسان مرکب ہے وہ جسم ہے پس ان دونوں کے لئے مختلف قسم کی قسم کی ربوبیت کی ضرورت ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی ربوبیت کرتا ہے اور ہر ایک کی کرتا ہے۔ پس اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف اس موجودہ مذہب اسلام سے ہی دنیا کی ربوب ربوبیت نہیں کی بلکہ روحانی ربوبیت اس سے پہلے بھی وہ کرتا رہا ہے اور مختلف قوموں اور ملکوں میں اس کی طرف سے روحانی طبیب مقرر ہوتے رہے ہیں۔ اس جگہ موجودہ مذہب اسلام کا لفظ جو کہ میں نے استعمال کیا ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ ایک اسلام تو یہ ہے جو کہ نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوا مگر اس سے پہلے جو مذہب ہوتے رہے ہیں وہ بھی اسلام کے مطابق ہی تھے اور خدا تعالیٰ نے ان کا نام بھی اسلام ہی رکھا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ مکمل نہیں تھے اور موجودہ مذہب اسلام ہر پہلو سے مکمل ہے۔ غرضیکہ ربوبیت تو خدا پہلے بھی کرتا تھا مگر اس وقت یہ فرق تھا کہ وہ خاص فرقوں اور خاص ملکوں اور مقررہ وقتوں کے لئے ہوتی تھی اور وہ قواعد روحانی ربوبیت کے جو کہ خداتعالیٰ نے مقرر کئے تھے وہ ایک مدت کے بعد کچھ تو لوگ بگاڑ دیتے تھے اور کچھ زمانہ کی حالت کی وجہ سے بدلا دیئے جاتے تھے ۔ اور اسی لئے ہمارا مذہب ہے کہ یہ تمام قو میں جو اس وقت ایسی گمراہی میں پڑ رہی ہیں کسی وقت خدا کے کلام سے مستفیض ہو چکی ہیں اور بوجہ سستی اور غفلت کے جو کہ انہوں نے خدا کے حکم سے ظاہر کی یہ اس سے دور جا پڑیں اور اس درخت کی طرح ہو گئیں جو کہ پانی سے دور ہو اور کچھ عرصہ کے بعد بالکل سوکھ جائے اور یہ کل مذاہب کے برخلاف عقیدہ ہے یعنی ہندو عیسائی یہود اور آریہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ سوائے ان کے کسی اور کو ہدایت ہوئی اور ان کے خیال میں ان کے اپنے بزرگوں کے سوا کسی کو کلام الہی سے حصہ نہیں ملا حالا نکہ یہ صریح ظلم ہے اور زیادتی ہے کہ ایک کو تو خوب سیر کیا جائے اور دوسرا خواہ بھوک اور پیاس کے مارے تباہ ہو جائے روٹی کے ایک تھے یا پانی کے ایک گھونٹ سے بھی محروم رکھا جائے اور چونکہ ہم اس کو ہندوؤں اور یہودیوں کے حصے میں اچھی طرح لکھ آئے ہیں اس لئے یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں غرضیکہ وہ ظلم جو کہ اور مذاہب نے جائز رکھا ہے اس کو اسلام نے مٹادیا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام دنیا