انوارالعلوم (جلد 1) — Page 66
انوار العلوم جلد 1 ५५ محبت الهی میں جہاں کہیں انسانی نسل رہتی ہے خدا نے اپنی طرف رہنمائی کرنے کے لئے سامان مہیا کر دیا ہے اور اپنے بندوں کی کمزوری پر ہر جگہ رحم کیا ہے اور یہ بات عقل کے بر خلاف ہے کہ خدا نے جسمانی ربوبیت کا سامان تو تمام دنیا کے لئے مہیا کر دیا لیکن روحانی ربوبیت کا خیال بالکل ہی نہیں کیا اور سوائے ایک قوم کے سب کو اس سے محروم رکھا اور اسی لئے خدا تعالی اپنے کلام کے شروع ہی میں اس بات کی تردید کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں ہر قسم کی ربوبیت ہر جہاں کے لوگوں کی کرتا ہوں اور یہ جو انتراء باندھا گیا ہے کہ میں کسی اور کی ربوبیت نہیں کرتا بلکہ صرف ایک قوم کا ہی متکفل ہوں بالکل غلط ہے بلکہ میں تو تمام جہانوں کاربوبیت کرنے والا ہوں اب خواہ وہ ربوبیت جسمانی ہو اور خواہ روحانی ۔ اس جگہ مخالف ایک اعتراض کر سکتا ہے کہ جب اسلام نے بھی نجات اسلام پر ہی منحصر رکھی ہے تو ربوبیت تمام جہاں کی کہاں گئی مگر اس کا جواب صاف ہے کہ گو خداتعالیٰ نے آئندہ کے لئے اسلام پر ہی نجات کا دار و مدار رکھا ہے مگر پھر بھی یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ خدا نے شریعت کا دروازہ بند کیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ شریعت کامل ہو گئی ہے ورنہ الہام الہی کا دروازہ تو بالکل کھلا ہے اور جو شخص کہ جائز طریقہ سے اس کا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے یعنی اسلام میں داخل ہو کر اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی اتباع کر کے ایک شخص خدا تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ کر سکتا ہے حالانکہ دوسرے مذاہب کا خیال ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو کہ ان کے آباء واجداد تھے اور کسی کو یہ درجہ نصیب نہیں ہوا۔ پس ان میں تو ربوبیت کا دروازہ غیر مذاہب والوں پر بلکہ خودان پر بھی بند ہے اور اسلام میں یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے اور اب بھی ہم میں ایک ایسا شخص موجود ہے جس سے کہ خدا کلام کرتا ہے اور اپنی پاک آواز اس کو سناتا ہے اور اس کے سبب سے اور لوگ بھی اس کے غلاموں میں سے ایسے موجود ہیں جو کہ الہام الہی سے مستفیض ہیں اور اس کے کلام کی سچائی آتھم کی وجہ سے عیسائیوں اور یہودیوں پر اور لیکھرام کی وجہ سے آریوں اور سنائیوں پر ثابت ہے اور اب اگر وہ نہ مانیں تو اس میں نہ تو اس خدا کے مامور کا کچھ قصور ہے اور نہ خدا کا ہی ظلم ہے ان پر حجتیں قائم ہو چکی ہیں اور عذاب الہی کا دروازہ کھل رہا ہے اور کھلنے والا ہے چونکہ اس جگہ میں نے آتھم اور لیکھرام کا نام لیا ہے اس لئے اس کی بابت کچھ لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ آتھم ایک عیسائی تھا جس کی سرشت میں گالیاں دینا اور مسلمانوں کا دل دکھانا بھرا ہوا تھا اور اس نے ایک موقع پر نعوذ باللہ دجال کا لفظ نبی کریم ا کے لئے استعمال کیا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو مباہلہ کے لئے بلایا اور اس کے لئے پیشنگوئی کی کہ اگر رجوع