انوارالعلوم (جلد 1) — Page 37
انوار العلوم جلد ا ۳۷ محبت الهی طرح یقین کریں جبکہ شریعت موسوی اس کو ناجائز ٹھہراتی ہے۔ جس شریعت پر چلنے کا فخر خود حضرت عیسیٰ کو تھا پھر ان دلائل کے علاوہ ایک بات ایسی زبردست ہے کہ جس کو خیال میں لا کر ہم ایک دم کیلئے بھی حضرت عیسیٰ کو خدائی کا منصب نہیں دے سکتے یا دوسرے الفاظ میں ہم قطعاً یہ وہم بھی نہیں کر سکتے کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی کی قبر سری نگر کے خانیار محلہ میں معلوم کی گئی ہے اور انجیل سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر مرے نہیں بلکہ اس پر سے زندہ اتار لئے گئے تھے۔ اور تاریخی شہادتوں سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچائی گئی ہے کہ وہ سری نگر میں آئے اور وہاں آکر فوت ہوئے جس کی گواہی خود سری نگر کے باشندے بھی دیتے ہیں اب ہم نے مختصر سے دلائل اس بات کے دے دیئے ہیں کہ آیا عیسائی مذہب سچا ہے یا نہیں ۔ یا کہ اس کا خدا اس قابل ہے کہ ہم اس سے محبت کریں یا نہیں۔ اور ان دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے انسانی تصرفات اس مذہب میں جگہ رکھتے ہیں اور یہ اس قابل نہیں رہا کہ خدا کی تلاش کرنے والا آدمی اس سے کچھ فائدہ اٹھائے ۔ اس لئے اب ہم یہودیوں میں خدا کی تلاش کرتے ہیں کہ شاید ہم کو وہ خدا ملے جس سے کہ ہم محبت کریں اور وہ ہماری محبت کا بدلہ دے اور اس قابل ہو کہ ہم اس سے تسلی پائیں جو کہ آفات اور مشکلات کے وقت اپنے بندوں کی دستگیری کرے ۔ مگر افسوس کہ اس مذہب کی طرف ایک ہی قدم اٹھا کر ایک مایوسی کی ہو جاتی ہے اور طالب حق جو کہ حق اور اصلیت کی تلاش میں دن رات سرگردان و پریشان رہتا ہو اور جس کو فکر اور غم اس لئے گھیرے رہتے ہوں کہ کسی طرح اس کو وہ خدا ملے کہ جس کی محبت سے اس کا دل پاک ہو جائے اور یہ ایک سکھ اور چین کی زندگی پاوے گھبرا اٹھتا ہے اور حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسا مذہب ہے کہ جس کے پیرو خدا کے تعلق اور اس کے راستہ کی ہدایت کو اپنے لئے ہی مخصوص سمجھتے ہیں۔ ناظرین کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ سوائے ہمارے نجات کسی کو نہیں مل سکتی اور یہ کہ اور کوئی شخص اگر ہم میں داخل ہونا چاہے تو اس کے لئے یہ دروازہ قطعا بند ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ کوئی شخص توریت اور حضرت موسی پر ایمان لاکر یہودیوں کے زمرہ میں داخل ہو جائے ۔ اگر کوئی شخص یہودیوں میں داخل نہیں ہو سکتا تھا تو چاہئے تھا کہ کوئی اور طریقہ بھی نکالا جاتا کہ جس سے دنیا دائمی عذاب اور ہمیشہ کیلئے لعنت سے بچ جاتی۔ مگر نہیں۔ شاید خدا تعالیٰ کا یہودیوں سے رشتہ ہے کہ نجات سوائے ان کے اور کسی کو مل ہی نہیں سکتی ۔ اس نجات کا فائدہ ہی کیا ہوا کہ سوائے ایک فرقہ کے اور کسی کو نہ ملے باقی تمام فرقے اور تمام قومیں باوجود اقرار کرنے کے کہ یہودی مذہب سچا اور خدا کی