انوارالعلوم (جلد 1) — Page 36
انوار العلوم جلد 1 ۳۶ محبت الهی تعلق توڑ بیٹھا اور اس قادر مطلق کا انکار کر دیا جس کی طاقت اور جلال کا وہ سب سے زیادہ واقف تھا۔ کیونکہ لعنت کا یہی مفہوم ہے اور اگر تو ریت ہم کو ایسی نظیر بتاتی تو کچھ بات بھی تھی مگر بجائے اس کے کہ توریت کفارہ کی کوئی نظیر بتائے وہ الٹی اس کی منکر ہے ۔ کیونکہ پیدائش باب ۴۴ آیت ۱۷۱۶ میں لکھا ہے کہ ” یہود ابولا کہ ہم اپنے خداوند سے کیا کہیں اور کیا بولیں اور کیونکر اپنے تئیں پاک ٹھہرا دیں کہ خدا نے تیرے چاکر کی بدکاری ظاہر کی دیکھ کہ ہم اور وہ بھی جس پاس سے پیالا نکلا اپنے خداوند کے غلام ہیں وہ بولا خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں۔ یہ شخص جس پاس سے پیالا نکلا وہی میرا غلام ہو گا۔ اور تم اپنے باپ کے پاس سلامت جاؤ"۔ اس جگہ حضرت یوسف اپنے بھائی کو ایک پیالہ کی چوری کا ملزم بھی ٹھہراتے ہیں۔ ( یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ کہیں در حقیقت حضرت یوسف کے بھائی نے چوری کی بلکہ پیالہ حضرت یوسف کے غلاموں سے غلہ کی بوری میں رکھا گیا تھا) اور ان کے دوسرے بھائی اپنے آپ کو ان کے پاس ایک قیدی یا غلام کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر وہ جواب دیتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں اور اگر کفارہ جائز ہوتا تو حضرت یوسف کے بھائی جواب دیتے کہ جب خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا کی خاطر قربان کر دیا اور اس بیٹے کی قربانی کو قبول کیا تو کیا وجہ کہ ہماری قربانی اپنے بھائی کے بدلے رد کی جائے اور خود حضرت یوسف جو کہ نبی تھے یہ فقرہ ا زبان پر نہ لاتے ۔ کیونکہ خدا نہ کرے کا لفظ ظاہر ظاہر کہ کرتا ہے کہ ایک کے بدلے دو سرے کو پکڑنا شریعت کے لحاظ سے نا جائز تھا اس لئے حضرت یوسف فرماتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ مجھ سے ایسا برا فعل سرزد ہو ۔ اس جگہ کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی اپنے بھائی کے بدلے میں اپنے آپ کو غلام نہیں قرار دیتے بلکہ وہ اپنے آپ کا ، آپ کو اس کے ساتھ پکڑواتے ہیں۔ مگر حضرت یوسف کے جواب پر غور کرنے سے یہ بات اس پر کھل جائے گی کہ ان کا اصل مطلب یہی تھا کہ ان میں سے ایک رکھا جائے اور چھوٹا بھائی چھوڑ دیا جائے اور پھر اس گفتگو میں آگے چل کر یہودا کا آیت ۳۳ با ۳۳ میں یہ کہنا کہ ” اب مجھے اجازت دیجئے کہ تیرا چاکر جو ان کے بدلے اپنے خداوند کی غلامی میں رہے اور جو ان کو اس کے بھائیوں کے ساتھ جانے دے " صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے بدلہ میں قید کروانا چاہتا تھا۔ مگر حضرت یوسف نے صاف جواب دیا اور اس کو ایک گناہ قرار دیا۔ ۴ پس جبکہ کفارہ شریعت میں ناجائز تھا اور نبی اس کو ایک گناہ ٹھراتے تھے تو کیونکر یہ مانا جائے کہ حضرت عیسی سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ ان کے کفارہ پر ایمان رکھتے تھے۔ یا کفارہ پر بھی ہم کس