انوارالعلوم (جلد 1) — Page 38
انوار العلوم جلد 1 ۳۸ محبت الهی طرف سے ہے اس بات سے محروم رہیں کہ وہ خدا کی محبت کی لذت اٹھائیں۔ پھر جبکہ یہودیوں پر ہی نجات کا ملنا نہ ملنا منحصر ہے تو جزاء و سزا اور حشر و نشر و غیرہ بالکل بیہودہ اور لغو ہو جاتے ہیں اور اسی لئے یہودیوں کے بعض فرقے بالکل انکار کر بیٹھے ہیں کہ کبھی جزاء و سزا کا کوئی دن آوے گا۔ اور انہوں نے یہی نہیں کیا کہ جزاء و سزا کا ہی انکار کریں بلکہ ان کے خیال میں مذہب کوئی چیز نہیں صرف کچھ قوانین ہیں تاکہ بنی نوع انسان میں انتظام قائم رہے۔ پس ایسے لوگوں کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جنہوں نے مذہب کو ایک معمولی قوانین کا مجموعہ قرار دیا ہے ۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو دنیا میں کبھی کوئی سلطنت اس دو ہزار سال کے عرصہ میں رہ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس عرصہ کے درمیان کوئی یہودی سلطنت ہوئی ہی نہیں پھر یہ انتظام جو ہے تو کیونکر قائم رہا اور اگر یہ کہیں کہ عیسائی بھی تو ریت پر ایمان رکھتے ہیں ان کی سلطنت یہودیوں کی سلطنت ہی ہے تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ ان کو تو بزعم خود کسی شریعت کی ضرورت ہی نہیں اور ان کو اجازت ہے کہ سوائے چند باتوں کے جو کہ حواریوں کی کونسل نے قرار دی ہیں اور سب کام کریں اور جس طرح دل چاہے عمل کریں ان کے گناہوں کا بوجھ تو بیچارے مسیح کی گردن پر رکھا گیا ہے۔ اور یہ بالکل آزاد ہیں پھر عیسائیوں کی سلطنت کو اپنے اصول کے مطابق سمجھنا خلاف واقعہ ہو گا۔ اور اس کے علاوہ عیسائی سلطنتیں کہیں قصور معاف کرتی ہیں تو کہیں سزا دیتی ہیں حالانکہ توریت میں ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ لو تاکہ دنیا عبرت حاصل کرے ۔ پس عیسائی سلطنتوں کو اپنے میں شامل کرنا تو کسی طرح بجاہی نہیں۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں بغیر تعلیم موسوی کے بھی انتظام چل سکتا ہے ۔ اور دوسری قومیں بھی اس قابل ہیں کہ وہ بغیر تو ریت کی مدد کے دنیا کا انتظام چلا دیں پس ہم اب ان فرقوں پر نظر ڈالتے ہیں جو کہ جزاء و سزا کے قائل ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کے رو برو لوگ اپنے اعمال کا حساب دیں گے اور وہ کام جو کہ انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے ان کا بدلہ ان کو ملے گا مگر یہاں پھر یہ اعتراض آتا ہے کہ جب یہودیوں کیلئے نجات لازم ہے اور دوسروں کے لئے حرام تو جزاء و سزا کے دن کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیونکہ جزاء وسزا اس لئے ہے کہ وہاں بھلے اور برے میں فرق کر کے دکھایا جائے اور ظاہر کیا جائے کہ فلاں نے بہت عمدہ کام کیا اور فلاں نے بہت برا اور اس لئے اس کو جو کہ نیک اور شریف تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ یہ انعام دیئے جاتے ہیں اور وہ جو کہ بد تھا اور برائی کے سوا اور کچھ نہیں جانتا تھا یہ سزادی جاتی ہے۔ مگر یہاں تو یہ بات ہی نہیں کیونکہ یہودیوں کیلئے نجات لازم ہوئی