انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 629

انوار العلوم جلدا ۶۲۹ سيرة النبي ال ذریعہ سے آپ کو اپنے کمالات پر واقف کیا جانا تھا لیکن میرے نزدیک تو اس کا ایک یہ بھی مطلب تھا کہ جب فرشہ نے آپ کو اس بات کی خبر دی کہ دنیا کو خدا کا کلام سنا۔ ا کا کلام سنانے پر آپ مامور کئے گئے ہیں تو اس نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ یہ شخص خوشی سے اچھل پڑے اور خود اس پیغام کو لے کر چل پڑے اور لوگوں کو فخریہ سنائے کہ خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔ اس نے تو وہ رنگ انکسار اختیار کیا ہے جو کسی انسان نے اس سے پہلے اختیار نہ کیا تھا تو اس کا دل محبت کے جوش سے بھر گیا اور بے اختیار ہو کر اس نے آپ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا جو اور محبت کی لہر کا ایک ظہور تھا جو اس کے دل میں پیدا ہو ا ہو گئی تھی اور جب آپ کو گلے لگا کر اس نے چھوڑا اور پھر وہی پیغام دیا اور پھر وہی جواب سنا تو محبت کی آگ نے ایک اور شعلہ مارا اور پھر اس نے آپ کو گلے لگا لیا اور اسی طرح تیسری دفعہ کیا اور تیسری دفعہ کے بعد آپ کے سامنے وحی الہی کے الفاظ پڑھے کہ اب تو آپ جو کچھ بھی کہیں یہ خدا کی امانت آپ کے سپرد ہو گئی ہے اور آپ نے بلا چوں و چرا وں و چرا اسے قبول کیا۔ لیکن آپ کے انکسار کو دیکھو کہ اب بھی تسلی نہیں ہوئی اس قدر اصرار سے حکم ملتا ہے لیکن بھاگے بھاگے حضرت خدیجہ کے پاس جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی جان پر ڈر آتا ہے۔ اے غبیوں کے سردار! اے ان انسانی کمالات کے جامع ! اے بنی نوع انسان کے لئے ایک ہی رہنما؟ رہنما! تجھ پر میری جان قربان ہو۔ تو اب بھی اپنے کمالات سے آنکھیں بند کرتا ہے اور یہی خیال کرتا ہے کہ میں اس قابل کہاں جو اس وحدہ لا شریک کے پیغام کا اٹھانے والا بنوں۔ فرشتہ تاکید پر تاکید کرتا ہے اور پیغام الهی آپ تک پہنچاتا ہے لیکن باوجود اس کے آپ ابھی تک اپنے حُسن سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور بار بار یہی فرماتے ہیں کہ میں اس قابل کہاں حتی کہ گھر آکر اپنی غمگسار حضرت خدیجہ سے فرماتے ہیں کہ میں اپنی جان پر خائف ہوں۔ چونکہ یہ فقرہ بھی اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے اس لئے اس کے سمجھانے کے لئے بھی تشریح کی ضرورت ہے ۔ الہام انسان کو دو طرح ہوتے ہیں۔ کبھی ترقی کے لئے کبھی حجت کے لئے۔ یعنی کبھی تو خدا تعالیٰ انسان کو اس کے درجہ کے بلند کرنے کے لئے مخاطب فرماتا ہے اور کبھی اس پر حجت قائم کرنے کے لئے چنانچہ بہت سے لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص قرب نہیں رکھتے ان کو بھی الہام ہو جاتے ہیں اور وہ نادانی سے اس پر اترا جاتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لئے آزمائش اور ان پر حجت ہوتے ہیں۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بجائے ان الہامات سے فائدہ اٹھانے کے وہ فخر و تکبر میں پڑ جاتے ہیں اور آخر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ رسول کریم ال بھی چونکہ تواضع