انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 628 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 628

انوار العلوم جلد ا ۶۲۸ سيرة النبي ہو کر اپنی نالائقی کا اقرار کرے اور نہ اسے کہیں گے جو اپنے آپ کو لائق سمجھ کر اپنے نالائق ہونے کا اعلان کرے بلکہ منکسر المزاج وہ شخص ہے جو لائق اور صاحب فضیلت ہو کر دوسروں کی خوبیوں پر لیاقت اور فضیلت کے مطالعہ میں ایسا مشغول ہو کہ اپنی لیاقت اور فضیلت اس کی نظروں سے پوشیدہ ہو جائے اور ہر موقعہ پر دوسروں کی لیاقت اور فضیلت اس کے سامنے آجائے اور یہ صفت اس لئے اچھی ہوتی ہے کہ خدا تعالی - اتعالیٰ کے حضور میں تو یہ ادب کا صحیح طریق ہے اور بندوں میں اس کے ذریعہ سے فساد مٹ جاتے ہیں کیونکہ تمام فساد تکبر یا عدم انکسار سے پیدا ہوتے ہیں۔ تکبر جب لوگوں میں پھیل جائے تب تو بہت ہی فساد ہو گا کیونکہ ہر ایک شخص کہے گا میں دوسروں سے بڑا ہو جاؤں لیکن اگر تکبر نہ ہو اور انکسار بھی نہ ہو تب بھی فساد ہو جائے گا کیونکہ اکثر جھگڑے اسی وقت ہوتے ہیں جبکہ طرفین میں ہر ایک شخص اپنے حق پر اڑا رہے اگر ایک ! ایک ان میں سے اپنے حق کو ترک کر دے تو پھر سب جھگڑے بند ہو جائیں۔ پس انکسار دنیا کے امن و امان کے بڑھانے میں ایک زبر دست آلہ ہے اور ایثار کے ساتھ مل کر فساد کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتا ہے ورنہ جھوٹ بولنا انکسار نہیں کہلاتا جیسا کہ ان دنوں عام طور پر سمجھا جاتا ہے اور نہ انکسار اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص ستی اور غفلت کی وجہ سے کام سے جی چرائے۔ بعض لوگ جنہیں کام کی عادت نہیں ہوتی سستی سے ان کا پالا پڑا ہوا ہوتا ہے وہ انکسار کے پردہ میں اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں لیکن اس کا نام انکسار نہیں وہ غفلت اور سستی ہے منکسر المزاج وہی شخص ہے کہ وہ کام کی اہلیت رکھتے ہوئے پھر خدا تعالٰی کے جلال پر نظر کرتے ہوئے اپنی کمزوری کا مقر ہو لیکن جب اس کے کام سپرد ہو تو پوری ہمت سے اس کام کو کرے جیسا کہ رسول کریم ال نے کیا کہ باوجود اس انکسار کے جب آپ کے سپرد اصلاح عالم کا کام کر دیا گیا تو وہی شخص جو ” میں پڑھنا نہیں جانتا " کہہ کر اپنی کمزوری کا اقرار کر رہا تھا۔ رات اور دن اس تندہی سے اس کام کے بجالانے میں لگ گیا کہ دنیا دنگ ہو گئی اور کوئی انسان اس قدر کام کرنے والا نظر نہیں آتا جس قدر کہ آنحضرت ا نے کیا۔ پس آپ کا انکسار سچا انکسار تھا۔ کیونکہ با ار تھا۔ کیونکہ باوجو د لیاقت رکھنے کے آپ نے خدا کے جلال کا ایسا مطالعہ کیا کہ اپنی لیاقت کو بھلا دیا اور اللہ تعالیٰ کے نور کو اس طرح دیکھا کہ معلوم کر لیا کہ میری روشنی در حقیقت اس نور کا سایہ ہے۔ غرض آپ کے اس جواب سے کہ ” میں پڑھنا نہیں جانتا " صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ سے انکسار میں کمال رکھتے تھے اور گو فرشتہ کا آپ کو بار بار چمٹا لینا ایک یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ اس