انوارالعلوم (جلد 1) — Page 630
انوار العلوم جلدا ۶۳۰ سيرة النبي کے عالی مقام پر پہنچے تھے ۔ جب آپ کو الہام ہوا تو آپ گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ کلام مجھ پر بطور آزمائش اور حجت نازل ہوا ہو اور یہ اپنا خوف حضرت خدیجہ کے آگے بیان فرمایا جس پر انہوں نے آپ کو تسلی دلائی اور بتایا کہ جو اخلاق آپ کے ہیں اور جس مقام پر آپ ہیں کیا ایسے لوگوں کو بھی خدا تعالی ضائع کرتا ہے اور اپنا یقین ظاہر کرنے کے لئے انہوں نے قسم کھائی کہ تیرے جیسے کاموں والا انسان کبھی ضائع نہیں ہو سکتا۔ حجت اور آزمائش کے لئے تو ان کے الہام ہو سکتے ہیں جن کے اعمال میں کمزوری ہو یا متکبر ہوں۔ جو شخص آپ جیسا غریبوں کا خبر گیر اور اخلاق حسنہ کا ظاہر کرنے والا ہے کیا ان کو اللہ تعالی تباہ کر سکتا ہے۔ غرض حضرت خدیجہ کا جواب ظاہر کر رہا ہے کہ آنحضرت نے جو یہ فرمایا کہ میں اپنی جان پر ڈرتا ہوں۔ اس کا یہی مطلب تھا کہ مجھے خوف ہے کہ میری آزمائش نہ ہو جس پر انہوں نے تسلی دی کہ آپ آزمائش کے مقام سے بالا ہیں۔ آپ پر یہ الہامات خدا تعالیٰ کے انعامات کے طور پر نازل ہوتے ہیں چنانچہ آئندہ کی وحی نے آپ پر روز روشن کی طرح کھول کھول دیا دو کہ آپ خدا تعالیٰ کے مقبول تھے اور ۔ آ آپ نے اپنے طریق عمل سے بتا دیا کہ آپ کا کہنا کہ ”میں کہاں اس الہام کا سنانے والا ہو سکتا ہوں صرف تواضع کے طور پر تھا نہ کہ بوجہ سستی اور ڈر کے کیونکہ جس جرات اور زور سے آپ نے کام کیا اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں تھی۔ ور کسی کو گالی دینے یا برا کہنے سے اس انسان کا تو یا طہارۃ النفس سخت کلامی سے پر ہیز کچھ نہیں بگڑتا لیکن پھر بھی انسان بالطبع اپنے دشمن کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتا ہے اور ابتدائے عالم سے یہ مرض بنی نوع انسان میں چلی آئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گالی دینا ایک لغو کام ہے ۔ سخت کلامی کرنا ایک فضول حرکت ہے مگر اس کے لغو اور فضول ہونے کے باوجود گالی دینے والے گالیاں دیتے ہیں اور سخت کلامی کرنے والے سخت کلامی کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو جب غصہ یا جوش آئے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا اظہار کرے اور بہت دفعہ جب اس کے غصہ کی کوئی انتہاء نہیں رہتی اور جوش سے اس کی عقل ماری جاتی ہے تو وہ عام الفاظ میں اپنے غصہ کا اظہار نہیں کر سکتا اور جب دیکھتا ہے کہ الفاظ میں میرے غصہ کا اظہار نہیں ہو سکتا تو پھر ایسے الفاظ بولتا ہے کہ جو گو اس غصہ کے اظہار کرنے والے نہ ہوں لیکن ان سے یہ ثابت ہو کہ اس شخص کو سخت طیش ہے چنانچہ اس لئے سخت طیش میں تمام برائیوں کو انسان اپنے دشمن یا دکھ دینے والے کی طرف منسوب کرتا ہے حالانکہ وہ سب برائیاں