انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 610

انوار العلوم جلدا استقلال پر خاص روشنی ڈالتی ہے۔ سيرة النبي دنیا میں بہت سے لوگ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اس بات کے تو طہارۃ النفس - احسان کی قدر طالب رہتے ہیں کہ دوسرے ان پر احسان کریں لیکن اس بات کا ان کے دل میں خیال بھی نہیں آتا کہ جن لوگوں نے ان پر احسان کیا ہے ان کے احسانات کو یاد رکھ کر ان کا بدلہ بھی دیں۔ ایک دو احسانات کا یا د رکھنا تو الگ رہا والدین جن کے احسانات کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے احسانات کو بھی بہت سے لوگ بھلا دیتے ہیں۔ اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا اپنی محبت سے مجبور ہو کر یا اپنا فرض خیال کر کے کیا ہمیں اب کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ ان کی خبر گیری کرتے پھریں۔ لیکن ہمارے آنحضرت ا کا حال دنیا نیا ہے سے : بالکل مختلف تھا۔ آپ آ۔ پر جب کوئی شخص احسان کرتا تو آپ اسے ہمیشہ ہمیشہ یادر یاد رکھتے - تھے اور کبھی فراموش انہ نہ کرتے کرتے ۔ تھے ۔ اور ہمیشہ آپ کی کوشش رہتی تھی کہ جس نے آپ پر پر کبھی کوئی احسان کیا ہو۔ اسے اس کے احسان سے بڑھ کر بدلہ دیں۔ بدلہ دیں۔ یوں تو آپ کا اپنے رشتہ آپ کا اپنے رشتہ داروں، دوستوں مریدوں، خادموں اور ہم وطنوں سے سلوک شروع سے آخر تک ہمارے اس دعوے ما دعوے کی تصدیق کر رہا ہے لیکن ہم اسے واضح کرنے کے لئے ایک مثال بھی دے دیتے ہیں۔ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اپنے محسن کے احسان کا کس قدر خیال رہتا تھا اور کس طرح اسے یاد رکھتے تھے۔ بدر کی جنگ کے نام سے کون سا مسلمان نا واقف ہو گا یہی وہ جنگ ہے جس کا نام قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرقان رکھا ہے اور یہی وہ جنگ ہے جس میں عرب کے وہ سردار جو اس دعوی کے ساتھ گھر سے چلے تھے کہ اسلام کا نام ہمیشہ کے لئے مٹادیں گے خود مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج ان نام لیوا کوئی باقی نہیں۔ اور اگر کوئی ہے تو اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا بجائے فخر کے عار خیال کرتا ہے ۔ غرضیکہ اس جنگ میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی تھی اور بہت سے کفار قید بھی ہوئے تھے۔ وہ لوگ جو گھر سے اس ارادہ سے نکلے تھے کہ آنحضرت ا اور آپ کے اتباع کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیں گے ۔ اور جن کے دل میں رحم کا خیال تک بھی نہ تھا ان سے جس قدر بھی سختی کی جاتی اور جو سزائیں بھی ان کے لئے تجویز کی جاتیں بالکل روا اور مناسب تھیں۔ لیکن ان کی شرارت کے مقابلہ میں آنحضرت اللہ نے ان سے جو نرم سلوک کیا یعنی صرف ایک خفیف سا تاوان لے کر چھوڑ دیا ۔ وہ اپنی آپ ہی نظیر ہے مگر اس نرم سلوک پر بھی ابھی آپ کے دل میں یہ