انوارالعلوم (جلد 1) — Page 611
4 انوار العلوم جلدا 116 سيرة النبي ال تڑپ باقی تھی کہ اگر ہو سکے تو اور بھی نرمی ان سے برتوں اور آپ بہانہ ہی ڈھونڈتے تھے کہ کوئی اور معقول وجہ پیدا ہو جائے۔ تو میں ان کو بلا تاوان لئے کے چھوڑوں۔ چنانچہ اس موقعہ پر آپ نے حضرت جبیر سے جو گفتگو فرمائی وہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا دل اسی طرف مائل تھا کہ کوئی معقول عذر ہو تو میں ان لوگوں کو یونہی چھوڑ دوں۔ ہاں بلا وجہ چھوڑنے میں کئی قسم کے پولیٹیکل نقص تھے ۔ جن کی وجہ سے آ۔ آپ بلا کافی وجوہات کے یونہی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اس گفتگو سے جہاں مذکورہ بالا نتیجہ نکلتا ہے وہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے محسنوں کے احسانات کیسے یاد رہتے تھے اور آپ ان کا بدلہ دینے کے لئے تیار رہتے تھے ۔ حضرت جبیر فرماتے ہیں کہ ان النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أَسَارَى بَدْرٍ : لَوْ كَانَا كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِي حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ اللَّتْني لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ ۔ (بخارى كتاب الجهاد باب ما من النبي صلى الله عليه وسلم على الاسارى ری یعنی نبی کریم اللہ نے قیدیان بدر کے متعلق فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہو تا۔ اور ان ناشدنیوں کے حق میں سفارش کرتا تو میں ضرور ان کو چھوڑ دیتا۔ یہ کیا ہی پیارا کلام ہے ۔ اور کن بلند خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ جن کے سینوں میں احسانات کی قدر کرنے والا دل ہو۔ شاید اکثر ناظرین مطعم بن عدی کے نام اور اس کے کام سے ناواقف ہوں۔ اور خیال کریں کہ اس حدیث کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے اس لئے میں اس جگہ مطعم بن عدی کا وہ واقعہ بیان کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے آنحضرت ا نے اس موقعہ پر مطعم بن عدی کو یاد فرمایا اور خواہش فرمائی کہ اگر آج وہ ہو تا تو میں ان قیدیان جنگ کو اس کی سفارش پر چھوڑ دیتا۔ آنحضرت ا جب مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو ایک دفعہ ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے مشورہ کر کے قریش کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب سے خرید و فروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات بالکل ترک کر دیں کیونکہ وہ آنحضرت اللہ کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ان کے دشمنوں کے سپرد نہیں کر دیتے۔ کہ جس طرح چاہیں ان سے سلوک کریں۔ چنانچہ اس مضمون کا ایک معاہدہ لکھا گیا کہ آئندہ کوئی شخص بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ہاتھ نہ کوئی چیز فروخت کرے گا۔ نہ ان سے خریدے گا اور نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ کرے گا۔ اس بائیکاٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے شر سے بچنے کے لئے حضرت کے چچا ابو طالب کو نذکورہ بالا دونوں گھرانوں سمیت مکہ والوں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔ اور چونکہ مکہ ایک وادی غیر ذی زرع میں