انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 609

انوار العلوم جلد ! ۶۰۹ سيرة النبي اللہ تعالیٰ کے گنہگار بنو) اور آنحضرت ﷺ کو نمازوں میں سب سے پیاری وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام اختیار کیا جائے۔ خواہ تھوڑی ہی ہو اور آنحضرت ﷺ جب کسی وقت نماز پڑھتے تھے تو پھر اس وقت کو جانے نہ دیتے تھے ۔ ہمیشہ اس وقت نماز پڑھتے رہتے۔ حضرت عائشہ کی اس گواہی سے نہایت بین اور واضح طور سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آنحضرت ا کا استقلال ہر رنگ میں کامل تھا۔ اور خواہ بڑے کام ہوں یا چھوٹے ۔ آپ استقلال کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ چنانچہ اس شہادت سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔ ا۔ صحابہ کو استقلال کا سبق پڑھانا۔ اور ہمیشہ انہیں استقلال کی تعلیم دیتے رہنا۔ کیونکہ طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا نتیجہ ہمیشہ بے استقلالی ہوتا ہے۔ اور آپ کا اس بات سے صحابہ کو روکنا در حقیقت انہیں استقلال کی تعلیم دیتا تھا۔ اور یہ آنحضرت لال کی خصوصیت ہے جس میں کوئی نبی آپ کا شریک نہیں ۔ کہ آپ قرآن کریم کے طریق کے مطابق جب کبھی کسی نیکی کا حکم کرتے یا بدی سے روکتے۔ تو ہمیشہ اس نیکی کے حصول کی آسان راہ ساتھ بتاتے ۔ یا اس بدی کا اصل باعث ظاہر کرتے تاکہ اس سے اجتناب کر کے انسان اس بدی سے بچ جائے۔ اور اسی اصل کے ماتحت انحضرت نے استقلال کی تعلیم بھی صحابہ کو دی۔ یعنی انہیں منع فرما دیا کہ جس کام کو آخر تک نباہنا مشکل ہو اس پر اپنی خوشی سے ہاتھ مت ڈالو کہ اس طرح رفتہ رفتہ بے استقلالی کی عادت تم میں پیدا نہ ہو جائے ۔ ۲- اس شہادت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خود بھی اس ' اس تعلیم پر عمل پیرا تھے ۔ اور اسی عبادت کو پسند فرماتے جس پر دوام ہو سکتا ہو ۔ خواہ وہ تھوڑی ہی ہو ۔ اور اس طرح اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتے۔ کہ آپ کسی کام میں خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا ۔ استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ۔ تیسرے یہ بات بھی ثابت ہونا بھی ثابت ہوتی ہے کہ نہ ہے کہ نہ صرف عام کاموں میں بلکہ عبادت میں بھی آپ استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ اور یہ ایک خاص بات ہے ۔ کیونکہ استقلال یا بے استقلالی کا اظہار عام کاموں میں ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص ایک دن خاص اثر اور جوش کے ماتحت خاص طور پر عبادت کرے۔ اور دوسرے دن نہ کرے۔ تو اس کا ایسا کرنا بے استقلالی نہیں کہلا سکتا۔ لیکن انحضرت ا اس صفت میں ایسے کامل تھے کہ آپ عبادت میں بھی یہ پسند نہ فرماتے کہ ایک دن ایک عبادت کر کے دو سرے دن چھوڑ دیں ۔ بلکہ جب ایک عبادت ایک دن کرتے تو دوسرے دن پھر کرتے تاکہ اس کے ترک سے طبیعت میں بے استقلالی نہ پیدا ہو۔ اور یہ بات آپ کے