انوارالعلوم (جلد 1) — Page 605
انوار العلوم جلدا ۶۰۵ سيرة النبي ایک نیک کام کو شروع کر کے جب وہ درمیان میں ہی چھوڑ دے گا تو اس کا کوئی خاص فائدہ بنی نوع انسان کو نہ پہنچے گا۔ بلکہ خود اس شخص کا وہ وقت جو اپنے اس ادھورے کام پر خرچ کیا تھا ضائع سمجھا جائے گا۔ پس استقلال ایک طرف تو اپنے صاحب کے کاموں کی سنجیدگی اور حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے اور دوسری طرف اس ایک صفت کی وجہ سے انسان کے دوسرے اخلاق حسنہ اور قوائے مفیدہ کے ظہور اور نفع میں بھی خاص ترقی ہوتی ہے اس لئے اس مختصر سیرت میں میں آنحضرت کے استقلال پر بھی کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ یوں تو اگر غور کیا جائے تو جو کچھ میں اب تک لکھ چکا ہوں اس کا ہر ایک باب بلکہ ہر ایک ہیڈنگ آنحضرت ا کے استقلال کا شاہد ہے اور کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔ مگر میرت کی تکمیل چاہتی ہے کہ اس کے لئے الگ ہیڈنگ بھی ضرور قائم کیا جاوے۔ آنحضرت ا کی زندگی پر اگر ہم اجماعی نظر ڈالیں تو ہمیں رسول کریم ال استقلال کی ایک مجسم تصویر نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ استقلال کو بھی اس نمونہ استقلال پر فخر ہے۔ جو رسول کریم اللہ ﷺ نے دکھایا تھا۔ اس حالت کو دیکھو جس میں آنحضرت الی اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور پھر اس استقلال کو دیکھو جس سے اس کام کو نباہتے ہیں۔ آپ کی حالت نہ تو ایسی امیرانہ تھی کہ دنیا کی بالکل احتیاج ہی نہ تھی۔ اور گویا آپ دنیا کی فکروں سے ایسے آزاد تھے کہ اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ہی آپ ایسے فقیر اور محتاج تھے کہ آرام و آسائش کی زندگی کبھی بسر ہی نہ کی تھی اس لئے دنیا کا چھوڑنا آپ پر کچھ شاق نہ تھا مگر پھر بھی اس اوسط حالت کے باوجود جس میں آپ تھے اور جو عام طور پر بنی نوع انسان کو دنیا میں مشغول رکھتی ہے اور باوجود بیوی بچوں کی موجودگی اور ان کی فکر کے جب آپ غار حراء میں جاکر عبادت الہی میں مشغول ہوئے تو آپ کے پائے ثبات کو مشرکین کی ہنسی اور ٹھٹھے نے ذرا بھی متزلزل نہ کیا۔ اور آخر اس وقت اس غار کو چھوڑا جب آسمان سے حکم آیا کہ بس اب خلوت کا زمانہ ختم ہوا اور کام کا زمانہ آگیا جا اور ہماری مخلوق لا۔ کو راہ راست پر لا يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَانْذِرَ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدثر : ۲- ۶) اس حکم کا نازل ہونا تھا کہ وہ شخص جو باوجود ہزاروں احتیاجوں اور سینکڑوں مغلوں کے اپنے بیوی بچوں کو خدا کے سپرد کر کے وحدہ لا شریک خدا کی پرستش میں مشغول تھا۔ اور دنیا و مافیہا سے بے تعلق تھا۔ شہر سے دورراہ سے علیحدہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر پھر دو سری طرف چند گز