انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 606

انوار العلوم جلد ) ५०५ سيرة النبي نیچے اتر کر ایک پتھر کے نیچے بیٹھ کر، تا دنیا اس کی عبادت میں مخل نہ ہو ۔ عبادت الہی کیا کرتا تھا۔ اور انسانوں سے ایسا متنفر تھا گویا وہ سانپ ہے ہ سانپ ہیں یا اثر رہا۔ یا اثر رہا۔ دنیا کے سامنے آتا آتا ہے اور یا تو وہ دنیا سے بھاگتا تھا یا اب دنیا اس سے بھاگ رہی ہے۔ اور اس کے نزدیک کوئی نہیں جاتا مگر وہ ہے کہ ہر ایک گھر میں گھستا ہے ہر ایک شخص کو پکڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ کعبہ کے میدان میں کھڑا رہتا ہے تاکہ کوئی شخص طواف کرنے کے لئے گھر سے نکلے تو اس سے ہی کچھ بات کر سکوں۔ قافلے آتے ہیں تو لوگ تو اس لئے روڑے جاتے ہیں کہ جا کر کچھ غلہ خرید لائیں یا جو اسباب تجارت وہ لائے ہیں اسے اپنی ضرورت کے مطابق خرید لیں۔ لیکن یہ شخص کسی تجارت کی غرض سے نہیں بلکہ ایک حق اور صداقت کی خبر دینے کے لئے ان سے بھی آگے آگے دوڑا جاتا ہے۔ اور اس کا پیغام کیا ہے جو ہر ایک انسان کو پہنچانا چاہتا ہے وہ پیغام لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَۂ ہے جس سے عرب ایسی وحشت کھاتے تھے کہ اگر کان میں یہ آواز پڑ جاتی تو کان میں انگلیاں دے لیتے تھے اور جس کے منہ سے یہ الفاظ سنتے اس پر دیوانہ وار لپک پڑتے اور چاہتے کہ اسے ایسی سزا دیں کہ جس سے بڑھ کر اور سزانا ممکن ہو۔ مگر باوجو د عربوں کی اس مخالفت کے وہ تنہائی پسند انسان غار حراء میں دن گزارنے والا انسان جب موقعہ پاتا یہ پیغام ان کو سناتا۔ اور کسی مجلس یا کسی جماعت کا خوف یا رعب اسے اس پیغام کے پہنچانے میں روک نہ ہو سکتا۔ یہ کام اس نے ایک دن نہیں دو دن نہیں مہینہ نہیں دو مہینہ نہیں اپنی وفات کے دن تک کیا اور باوجو د سب دنیا کی مخالفت کے اپنے کام سے باز نہ آیا۔ نہ عرب کے مشرک اس کو باز رکھ سکے نہ شام کے مسیحی اس کے جوش کو کم کر سکے نہ ایران کے مجوسی اس کو ست کر سکے۔ اور نہ مدینہ اور خیبر کے یہود اس کی راہ میں روک بن سکے ۔ ہر ایک دشمنی ، ہر ایک عداوت ہر ایک مخالفت ہر ایک تکلیف کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ آگے ہی آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا اور ایک منٹ کے لئے بھی اس نے اپنی آواز نیچی نہ کی۔ حتی کہ وفات کے وقت بھی یہیں نصیحت کرنا گیا کہ دیکھنا خدا تعالٰی کا شریک کسی کو نہ بنانا اور وہ وحدہ لا شریک ہے کوئی چیز اس کے برابر نہیں حتی کہ سب انسانوں سے افضل محمد اللہ بھی اس کا ایک بندہ اور رسول ہے۔ اس کی قبر کو بھی دوسری قوموں کے دستور کے مطابق مسجد نہ بنالینا۔ کیا اس استقلال کا نمونہ دنیا میں کسی اور انسان نے بھی دکھایا ہے؟ کیا ایسے مخالفانہ حالات کے مقابلہ پر ایسا فولادی عزم کسی نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں ۔ لوگ ذرا ذرا سا کام کر کے تھک جاتے ہیں اور تھوڑی سی تکلیف دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں بلکہ بغیر تکلیف کے بھی کسی