انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 604

انوار العلوم جلد) ۶۰۲ الله صلى الله سيرة ابي اس کا مال ہے۔ رضا بالقضا کا یہ نمونہ کیسا پاک کیسا اعلیٰ کیسا لطیف ہے کہ جس قدر اس پر غور کیا جائے اس قدر کمال ظاہر ہوتا ہے پھر اپنی صاحبزادی کو نصیحت کرنا کہ صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں پر انتہائی درجہ کے یقین اور امید پر دلالت کرتا ہے مگر صرف یہی بات نہیں بلکہ اس واقعہ سے ایک اور بات بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کا صبر اس وجہ سے نہ تھا سے نہ تھا کہ آپ کا دل نَعُوذُ بِالله سخت تھا بلکہ صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر امید اور اس کی مالکیت پر ایمان تھا کیونکہ جیسا بیان ہو چکا ہے جب آپ اپنی صاحبزادی کے گھر پر تشریف لے گئے تو آپ کی گود میں تڑپتا ہوا بچہ رکھ دیا گیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ سعد بن عبادہ نے غلطی سے اعتراض کیا کہ یا رسول اللہ یہ صبر کیسا ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔ آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ رحم اور چیز ہے اور صبر اور شے ہے۔ رحم چاہتا ہے کہ اس بچہ کو تکلیف میں دیکھ کر ہمارا دل بھی دُکھے اور دل کے درد کا اظہار آنکھوں کے آنسوؤں سے ہوتا ہے۔ اور صبر یہ ہے کہ ہم اس بات پر راضی ہو جائیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوا سے قبول کریں اور اس پر کرب و اضطرار کا اظہار نہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کا رحم جذب کرنے کیلئے تو رحم کی سخت ضرورت ہے پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دکھوں میں رحم اور شفقت کی عادت ڈالے تو پھر اس بات کا امیدوار ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی تکالیف میں اس پر رحم کرے ۔ غرضیکہ ایک طرف اپنے نواسہ کی وفات کا حال سن کر جو آپ کے بڑھاپے کی عمر کا ثمرہ تھا اور خصوصاً جب کہ آپ کے کوئی نرینہ اولاد موجود نہ تھی، صبر کرنا اور اپنی لڑکی کو صبر کی تلقین کرنا اور دوسری طرف اس بچہ کو دکھ میں دیکھ کر آپ کے آنسوؤں کا جاری ہو جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک قضاء پر صابر تھے اور یہ کہ آپ کا صبر سخت ولی ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ) کا موجب نہ تھا بلکہ آپ کا دل رحم و شفقت سے پر تھا۔ طهارة النفس - استقلال قابل اور ناقا نا قابل انسان کی پرکھ میں استقلال بہت مدد دیتا ہے کیونکہ استقلال سے انسان کے بہت سے پوشیده در پوشیده اخلاق اور قوتوں کا پتہ لگ جاتا ہے اور مستقل اور غیر مستقل انسان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو بیسیوں نیک اخلاق کا جامع ہو۔ لیکن اس کے اندر استقلال نہ ہو اس کے اخلاق حسنہ نہ تو اس کے نفس کی خوبی کو ثابت کر سکتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو ان سے کوئی معتد بہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اس میں استقلال نہیں اور وہ اپنے کاموں میں دوام اختیار نہیں کرتا تو اول تو یہی خیال ہو سکتا ہے کہ اس کے نیک اخلاق ممکن ہے کہ بناوٹ کا نتیجہ ہوں۔ اور دوسرے