انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 587

انوار و سلوم جلدا چاہئے ۔ ۵۸۷ سيرة النبي ہمیں اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماتحتوں پر اسی وقت بادشاہ کے حکم بدل دینے کا برا اثر پڑتا ہے جب کہ ان کو یہ یقین ہو کہ بادشاہ ہمارا یقینی خیر خواہ نہیں بلکہ اس نے ڈر کر اپنے حکم میں تبدیلی کی ہے اور جب انہیں یقین ہو کہ اس کے احکام ایک غیر مستقل طبیعت کا نتیجہ ہیں لیکن اگر انہیں اس بات کا کامل یقین ہو جائے کہ کوئی بادشاہ یا حاکم ان سے ڈر کریا بے استقلالی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے حکم بدلتا ہے کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے اور کسی وقت بھی ان کی بھلائی سے غافل نہیں ہوتا تو بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں بے رعبی پیدا ہو وہ اس سے اور بھی مرعوب ہو جاتے ہیں اور ان کے دل محبت سے بھر جاتے ہیں اور جو بادشاہ اپنی رعایا اور ماتحتوں کے دلوں میں اپنی خیر خواہی کا ایسا یقین بٹھارے وہی سب سے زبردست بادشاہ ہے اور یہی خیال تھا جس نے کہ ابو موسی اور ان کے ساتھیوں کو مجبور کیا کہ بجائے اس خیال کے کہ یہ سمجھیں کہ آنحضرت ال سے کسی قسم کی بے استقلالی ظاہر ہوئی ہے انہوں نے جنگ کے لئے پیدل جانا منظور کیا مگر یہ نہ پسند کیا کہ آپ کو دوبارہ قسم یاد دلائے ! اد دلائے بغیر ان سواریوں کو استعمال کریں۔ اور یہ اس عظیم الشان فتح کا نشان تھا جو آپ کو اپنے اصحاب کے دلوں پر حاصل تھی۔ تحمل میں سے کی بھی اعلی کی ہے تی انسان کے نیک خصال میں سے تحمل کی خصلت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے کیونکہ محل سے بہت سے جھگڑوں فو روں فسادوں اور لڑائیوں کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔ بہت دفعہ انسان ایک بات سنکر بحث مباحثہ میں پڑ جاتا ہے اور بجائے فائدہ کرنے کے نقصان پہنچاتا ہے۔ بعض لوگ تو اپنے خیال کے خلاف بات سنتے ہی کچھ ایسے دیوانہ ہو جاتے ہیں کہ حد اعتدال سے بڑھ کر گالیوں پر اتر آتے ہیں اور عظیم الشان فسادوں کے بانی ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے منشا کے خلاف بات سنکر ایسی طول طویل بحثیں شروع کر دیتے ہیں کہ جن کا ختم ہونا محالات سے ہو جاتا ہے لیکن حقیقی مصلح وہی ہے جو اکثر اوقات تحمل سے کام لیتا ہے اور احتیاط کے ساتھ سمجھاتا ہے۔ آجکل کے بادشاہ یا علماء یا گدی نشین اپنی حیثیت کا قیام ہی اس میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کے خلاف بات نہ کرے اور مرضی کے خلاف بات دیکھ کر فور آناراض ہو جاتے ہیں اور تحمل سے کام نہیں لیتے ممکن نہیں کہ ان لوگوں کے مزاج کے خلاف کوئی شخص بات کہہ دے اور پھر بغیر کچھ سخت دست کلام سننے کے اس مجلس سے اٹھے مگر ہمارے آنحضرت ا اس طرز کے نہ تھے۔ اس موقع پر تحمل سے کام لیتے اور بجائے گالیاں دینے اور سختی کرنے کے ایسا نرمی کا طریق اختیار