انوارالعلوم (جلد 1) — Page 586
انوار العلوم جلد ا اِلَّا اتَيْتُ الَّذِي هُوَ ۔ ذِي Sa ۵۸۶ سيرة النبي الله ى هُوَ خَيْرٌ مِنها (بخاری کتاب المغازی باب قدوم الا شعر بين وأهل اليمن ) آپ نے فرمایا کہ ہم چند آدمی جو اشعری قبیلہ کے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ آپ نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے میں نہیں دے سکتا۔ ہم نے پھر عرض کیا کہ ہمیں سواری دی جاوے تو آپ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہ دیں گے پھر کچھ زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ اونٹ لائے گئے پس آپ نے حکم دیا کہ ہمیں پانچ اونٹ دیئے جاویں۔ پس جب ہم نے وہ اونٹ لے لئے ہم نے آپس میں کہا کہ ہم نے تو آنحضرت اللا کو دھوکا دیا ہے اور آپ کو آپ کی قسم یاد نہیں دلائی ہم اس کے بعد کبھی مظفر و منصور نہ ہوں گے اس خوف سے میں آنحضرت ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں سواری نہ دیں گے اور اب تو آپ نے ہمیں سواری دے دی ہے۔ فرمایا ہاں اسی طرح ہوا ہے میں کوئی قسم نہیں کھاتا لیکن جب اس کے سوا کوئی اور بات بہتر دیکھتا ہوں تو وہ بات اختیار کر لیتا ہوں جو بہتر ہو ۔ اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ا کا مقصود کیا تھا آپ کے کام کسی دنیاوی مصلحت یا ارادہ کے ماتحت نہ ہوتے تھے بلکہ آپ اپنے ہر کام میں یہ بات مد نظر رکھتے تھے کہ جو کچھ آپ کرتے ہیں وہ واقعہ میں نفع رساں بھی ہے یا نہیں اور اگر کبھی معلوم ہو جائے کہ آ۔ ہو جائے کہ آپ نے کوئی ایسا کام کیا ہے یا اس کے کرنے کا ارادہ کیا ہے جو کسی انسان کے لئے مضر ہو گایا اسے اس سے تکلیف ہو گی تو آپ فورا اپنے پہلے حکم کو واپس لے لیتے اور وہی بات کرتے جو بہتر اور نفع رساں ہوتی۔ ایک ظاہر بین انسان کہہ سکتا ہے کہ اس سے رعب و داب میں فرق آتا ہے اور حکومت کو نقصان پہنچتا ہے مگر اس بات سے تو آپ کی خوبی اور نیکی کا پتہ چلتا ہے کہ خواہ کوئی امر کیسا ہی خطرناک اور مضر معلوم ہو تا ہو آپ بے دھڑک اسے اختیار کر لیتے تھے جبکہ آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس سے لوگوں کے حقوق کی نگہداشت ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا کہ باوجود اس بات کے آپ کو ایسا رء با رعب و داب میسر تھا جو دنیا کے کسی بادشاہ کو میسر نہیں۔ واقعہ میں ایک بادشاہ کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سکھ پہنچائے اور آپ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا آپ دین و دنیا کے لئے ایک کامل نمونہ تھے اور آپ کی زندگی دنیاوی بادشاہوں کے لئے بھی نمونہ ہے کہ بادشاہوں کو اپنے ماتحتوں اور رعایا کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اور کس طرح ضد اور تعصب سے الگ ہو کر ہر ایک قربانی اختیار کر کے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لئے تیار رہنا که لہ آر