انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 588

انوار العلوم جلد ! ۵۸۸ سيرة النبي کرتے کہ دو سرا خود بخود شرمندہ ہو جائے۔ حضرت علی اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک موقع پر جبکہ حضرت علی نے آپ کو ایسا جواب دیا جس میں بحث اور مقابلہ کا طر ز پایا جاتا تھا تو بجائے اس کے کہ آپ ناراض ہوتے یا خفگی کا اظہار کرتے آپ نے ایک ایسی لطیف طرز اختیار کی کہ حضرت علی غالبا اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس کی حلاوت سے مزا اٹھاتے رہے ہوں گے اور انہوں نے جو لطف اٹھایا ہو گا وہ تو انہیں کا حق تھا۔ اب بھی آئ کا حق تھا۔ اب بھی آنحضرت اللہ کے اس اظہار نا پسندیدگی کو معلوم کر کے ہر ایک باریک بین نظر محو حیرت ہو جاتی ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيْلَةً فَقَالَ : أَلَا تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَالِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَى شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ وَ كَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْ جَدَلاً ( بخارى كتاب التحجد باب تحريض النبي صلى الله عليه وسلم على قيام المليل العنی نبی کریم ا ایک رات میرے اور فاطمہ الزہرا کے پاس تشریف لائے جو رسول اللہ کی صاحبزادی تھیں اور فرمایا کہ کیا تم تسجد کی نماز نہیں پڑھا کرتے۔ میں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ہماری جانیں تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں جب وہ اٹھانا چاہے اٹھا دیتا ہے ۔ آپ اس بات کو سنکر لوٹ گئے اور مجھے کچھ نہیں کہا پھر میں نے آپ سے سنا اور آپ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوئے تھے اور آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہہ رہے ہیں کہ انسان تو اکثر باتوں میں بحث کرنے لگ پڑتا ہے۔ اللہ اللہ کس لطیف طرز سے حضرت علی کو آپ نے سمجھایا کہ آپ کو یہ جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔ کوئی اور ہوتا تو اول تو بحث شروع کر دیتا کہ میری پوزیشن اور رتبہ کو دیکھو۔ پھر اپنے جواب کو دیکھو کہ کیا تمہیں یہ حق پہنچتا تھا کہ اس طرح میری بات کو رد کر دو۔ یہ نہیں تو کم سے کم بحث شروع کر دیتا کہ یہ تمہارا دعویٰ غلط ہے کہ انسان مجبور ہے اور اس کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں وہ جس طرح چاہے کرواتا ہے چاہے نماز کی توفیق دے چاہے نہ دے اور کہتا کہ جبر کا مسئلہ قرآن شریف کے خلاف ہے لیکن آپ نے ان دونوں طریق میں سے کوئی بھی اختیار نہ کیا اور نہ تو ان پر ناراض ہوئے نہ بحث کر کے حضرت علی کو ان کے قول کی غلطی پر آگاہ کیا بلکہ ایک طرف ہو کر ان کے اس جواب پر اس طرح اظهار حیرت کر دیا کہ انسان بھی عجیب ہے کہ ہر بات میں کوئی نہ کوئی پہلو اپنے موافق نکال ہی لیتا ہے اور بحث شروع کر دیتا ہے حقیقت میں آپ کا اتنا کہہ