انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 575

انوار العلوم جلدا ۵۷۵ سيرة النبي ال نمازیں پڑھتے ۔ پس ہم پر اپنی طرف سے تسلی نازل فرما اور اگر جنگ پیش آئے تو ہمارے پاؤں کو ثبات دیجئے وہ دشمن کے مقابلہ میں بالکل نہ ڈگمگائیں۔ ں بالکل نہ ڈگمگائیں ۔ الہی یہ کا فرہم پر ظلم اور زیادتی سے حملہ آور ہو گئے ہیں اور ہمارے خلاف انہوں نے بغاوت کی ہے کیونکہ جب انہوں نے ہمیں شرک و کفر میں بتلا ہونے کی دعوت دی ہے ہم نے ان کی بات کے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اللہ اللہ وہ کیا ہی پیاری مٹی ہو گی جسے آپ اٹھاتے تھے اور وہ مٹی کروڑوں من سونے سے زیادہ قیمتی تھی جسے جسے اٹھانے کے لئے خاتم النبین الم کے ہاتھ اٹھتے تھے اور جسے آ۔ ، آپ کے پیٹ پر گرنے کا شرف حاصل ہوتا تھا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عذاب شدید کو دیکھ کر يَقُولُ الْكَفِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا (النبا (۴) کافر کہہ اٹھیں گے کہ کاش ہم مٹی ہوتے اور شریرو بد معاش لوگ جب سزا پاتے ہیں تو ایسے ہی جملے کہا کرتے ہیں اور اپنی حالت پر افسوس ہی کیا کرتے ہیں مگر خدا گواہ ہے وہ مٹی جو آنحضرت کے پیٹ پر گرتی تھی اس کی نسبت تو ایک مؤمن کا دل بھی للچا جاتا ہے کہ وہ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا کہہ اٹھے اور یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ براء اس واقعہ کا بیان کرتے ہوئے اس مٹی کا بھی ذکر کرتے ہیں جو آپ کے پیٹ پر گرتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس مٹی کو بھی عشق کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور لالچ کی نگاہیں ادھر پڑ رہی تھیں اسی لئے تو مدتوں کے بعد جب وہ جنگ احزاب کا ذکر فرماتے ہیں تو وہ مٹی جو آنحضرت ا کے جسم اطہر پر پڑتی تھی انکو یاد آجاتی ہے۔ میں حیران ہوں کہ صحابہ کسی محبت اور کس شوق سے اس وقت آنحضرت کی طرف دیکھتے ہوں گے ۔ خدایا وہ مزدور کیسا ہو گا اور کس شان کا ہو گا جس کے سر پر نبوت کا تاج تھا اور دوش پر مٹی کا ڈھیر ۔ صحابہ کے قدموں میں کیسی تیزی اور کیسی پھرتی پیدا ہو گئی ہوگی ہر ایک ان میں سے تیزی اور کیسی پھرتی پیدا ہوگئی ہوگی ہر ایک ان میں سے اپنے دل میں کہتا ہو گا کہ خدا کے لئے جلد جلد اس مٹی کو صاف کر کے جس قدر ہو سکے آنحضرت کا کام کم ہو اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بوجھ اٹھاتے ہوں گے تاکہ جلد اس بوجھ کو ختم کریں اور آنحضرت ا کو آرام دیں۔ میری عقل چکراتی ہے جب میں صحابہ کے ان جذبات کا نقشہ اپنے دل میں کھینچتا ہوں جو اس وقت ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہوں گے میری قوت متحیلہ پریشان ہو جاتی ہے جب میں ان خیالات پریشاں کو اپنے سامنے حاضر کرتا ہوں جو اس وقت صحابہ کے دل و دماغ میں گشت لگا رہے ہوں گے۔ اف ایک بجلی ایک سٹیم ہوگی جو اس وقت ان کے اندر کام کر رہی ہو گی۔ نہیں بجلی اور