انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 576

انوار العلوم جلدا ۵۷۶ سيرة النبي ال سٹیم کی کیا حقیقت ہے عشق کی گرمی ان سے کام لے رہی تھی اور وہ مٹی جو وہ اپنی گردنوں اور کندھوں پر رکھتے تھے انہیں ہر ایک قسم کی نعمت سے زیادہ معلوم ہوتی تھی وہ بوجھ انہیں سب غموں سے چھڑا رہا تھا اور وہ مٹی انہیں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی معلوم ہوتی تھی جسے نبیوں کے سرتاج کے کندھوں پر رکھے جانے کا فخر حاصل تھا۔ کیا کوئی مسلمان بادشاہ ایسا ہے جسے اس مٹی کے اٹھانے میں عذر ہو ! نہیں اس وقت کے اسلام سے غافل بادشاہ بھی اسے اٹھانے میں فخر سمجھیں گے پھر وہ نیکو کار گروہ اسے اپنی کیسی کچھ عزت نہ خیال کرتا ہو گا۔ اور یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ آنحضرت الی ان کو ایک گھوڑے پر کھڑے ہوئے حکم نہیں دے رہے تھے بلکہ دوسروں کو حکم دینے سے پہلے آپ خود اپنے کندھوں پر مٹی کا ڈھیر رکھتے تھے پھر جو لوگ اپنے محبوب و آقا کو مٹی ڈھوتے دیکھتے ہوں گے وہ جس شوق سے بھی اس کام کو کرتے بالکل مناسب اور بجا ہوتا یہ ایک ایسی اعلیٰ تدبیر تھی جس سے اگر ایک طرف آنحضرت کی محبت الہی ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ فطرت انسانی کو خوب سمجھتے تھے اور آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ماتحتوں میں روح پھونکنی ہو تو اس کا ایک ہی گر ہے کہ خود ان کے ساتھ مل کر کام کرو پھر ان میں خود بخود جوش پیدا ہو جائے گا اور اس طرح آپ نے ایک نا قابل فتح لشکر تیار کر دیا جو ہر زمانے کے لئے مایہ ناز ہے۔ اس حدیث سے ہمیں کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اول تو یہ کہ آنحضرت نے صرف ایک دفعہ ہی صحابہ کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کرتے تھے کیونکہ پہلا واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے وہ آپ کی مدنی زندگی کا ابتدائی واقعہ ہے اور یہ چھ سال بعد کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ کی عادت تھی کہ کوئی کام کسی کو نہ دیتے مگر خود اس میں شامل ہوتے تاکہ خود بھی ثواب سے حصہ لیں اور دوسروں کو اور بھی رغبت اور شوق پیدا ہو کہ جب ہمارا آقا خود شامل ہے تو ہمیں اس کام سے کیا عار ہو سکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ انہیں چستی سے کام کرنے کی عادت ہو اور وہ آپ کے شمول کی وجہ سے جس تیزی سے کام کرتے ہوں گے اسے ان کی عادت میں داخل کر دیا جائے۔ دوسرے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے تھے اس وقت آپ بالکل نو وار د تھے اور ابھی آپ کی حکومت قائم نہ ہوئی تھی اور گو سینکڑوں جاں نثار موجود تھے جو اپنی جان قربان کرنے کیلئے حاضر تھے مگر پھر بھی دنیا کے لحاظ سے آپ کے ماتحت کوئی علاقہ نہ تھا مگر