انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 574

انوار العلوم جلدا ۵۷۴ سيرة النبي کر سکتا اور اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ قریش کو اپنے سرداروں کے مارے جانے کاطیش ایک دم چین نہ لینے دیتا تھا اور وہ آئے دن مسلمانوں پر حملہ کرتے رہتے تھے جن میں سے مشہور حملہ احد کا بھی ہے یہ حملے متواتر چھ سال تک ہوتے رہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جنگ بدر چھ سال تک متواتر جاری رہی اور اس کا خاتمہ احزاب پر ہوا جبکہ دشمن نے آخری مرتبہ ہزیمت اٹھا کر پھر مسلمانوں کو دکھ دینے کا ارادہ نہ کیا بلکہ نا امیدی اور مایوسی کا شکار ہو گئے اور سمجھ گئے کہ ہم مسلمانوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ جنگ احزاب جس کا ذکر قرآن شریف میں بار بار آیا ہے ایک نہایت خطرناک جنگ تھی جس میں مسلمان ایسے مجبور ہوئے تھے کہ انہیں قضائے حاجت کے لئے باہر جانے کو بھی رستہ نہ ملتا تھا اور کفار نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور دس ہزار کا لشکر مرنے مارنے کے ارادہ سے مٹھی بھر مسلمانوں کے سامنے پڑا ہوا تھا۔ جو مشکلات کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے۔ جب مسلمانوں کو اس لشکر کی آمد کی خبر ہوئی تھی تو آنحضرت نے سب صحابہ کو بلا کر مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے حضرت سلمان نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ایسے موقع پر ہمارے ملک میں تو خندق کھود لیتے ہیں اور اس کے پیچھے بیٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ نے یہ بات سنکر خندق کھودنے کا حکم دیا اور اسی وجہ سے جنگ احزاب کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔ چالیس چالیس ہاتھ زمین دس دس آدمیوں کو کھودنے کے لئے بانٹ دی گئی اور کام زور و شور جاری ہو گیا مگر آنحضرت کہاں تھے؟ آ۔ نہاں تھے ؟ آپ بھی ان لوگوں میں کام کر رہے تھے جو ادھر سے ادھر مٹی ڈھو رہے تھے کیونکہ کچھ لوگ زمین کھودتے تھے اور کچھ وہاں سے مٹی اٹھا کر ایک طرف کر سے دیتے تھے حتی کہ آپ کا بدن مٹی سے بھر گیا تھا۔ حضرت براء سے روایت ہے ۔ قال : وَ ابْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ التَّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَامُ بِيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ: لَوْ لَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَانْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا وَثَبِّتِ لَأَقْدَامَ إِنْ لَا قَيْنَا إِنَّ الألى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً بينا - ( بخاری کتاب المهاد باب حصر الخندق) ترجمہ : فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ا کو جنگ احزاب میں اس حالت میں دیکھا ہے کہ آپ بھی مٹی ڈھور۔ ڈھو رہے تھے اور آپ کے گورے گورے رے گورے پیٹ پر مٹی پڑی ہوئی تھی اور آ۔ اور آپ یہ فرماتے جاتے تھے۔ الہی اگر تیرا فضل نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت ا نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی اور نہ ہم صدقہ دیتے نہ