انوارالعلوم (جلد 1) — Page 573
انوار العلوم جلدا کے مقابلہ میں اسے رکھا جائے۔ ۵۷۳ سيرة النبي ال دوسرے شعر میں آنحضرت نے انہیں بتایا ہے کہ اس کام میں کسی مزدوری یا نفع کا خیال مت رکھنا بلکہ یہ تو خدا کا کام ہے جس میں اگر کسی نفع کی امید ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہو گا اور بجائے کے فوری نفع کے انجام کی بہتری بہتری ہو ہوگی گی اور اور جس کا انجام اچھا ہو اس سے زیادہ کامیاب کون ہو سکتا ہے پس اس پر نظر رکھو۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالٰی سے دعا بھی کر دی کہ خدایا یہ لوگ اپنے کام چھوڑ کر تیرے لئے مشقت اٹھا رہے ہیں تو ان پر رحم فرما۔ پس شاعر نے تو جن خیالات کے ماتحت اشعار کے ہوں گے ان سے وہی واقف ہو گا مگر آپ نے ان اشعار کو پڑھ کر اس کے معانی کو وہ و لو وہ وسعت دے دی ہے کہ باید و شاید - ہر کام میں صحابہ کے شریک ہوتے میں نے اس سے پہلے آنحضرت ا کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جس سے آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور انسانی قلب اس سے اعلیٰ سے اعلیٰ اصول طهارت نفس کے اور قومی ترقی کے نکال سکتا ہے۔ اب میں ایک اور واقعہ اس واقعہ اس پہلے واقعہ کی تائید میں درج کرتا ہوں لیکن چونکہ وہ نئے حالات اور نئے واقعات کو لئے ہوئے ہے اس لئے اس کا ذکر بھی کسی قدر تفصیل سے ہی مناسب ہے۔ یہ بات تو تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آنحضرت سے جو مخالفت مکہ والوں کو تھی اس کی نظیر دنیا کی کسی اور تاریخ میں نہیں ملتی ۔ آپ کی مخالفت اور ایذاء رسانی کے لئے جو تدابیر انہوں نے کیں یا جو منصوبے انہوں نے باندھے وہ اپنی نظیر آپ ہی تھے اور کبھی کسی قوم نے دنیاوی مخالفت میں یا دینی عداوت میں کسی انسان کی بلاوجہ ایسی بد خواہی نہیں کی جیسی اہل مکہ نے آنحضرت سے کی مگر خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں آنحضرت ا کو فتح دی اور آپ ہر دشمن پر فاتح رہے۔ گو چھوٹے چھوٹے حملے تو مدینہ میں آتے ہی شروع ہو گئے تھے مگر دراصل جنگوں کی ابتداء اب جنگ بدر سے ہی سمجھنا چاہئے کہ جس نے ایک طرف کفار کے بڑے بڑے سرداروں کو خاک میں ملا دیا اور دوسری طرف مسلمانوں پر ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ کی تائید انسان کو ہر مشکل سے سلامت نکال سکتی ہے اور دشمن خواہ کتناہی بہادر اور تعداد میں زیادہ ہو آسمانی تدابیر کا مقابلہ نہیں