انوارالعلوم (جلد 1) — Page 540
انوار العلوم جلدا ۵۲۰ سيرة النبي قتل یا قید کر لیا جائے۔ اور اس کی زیادہ تر وجہ یہ تھی کہ پچھلے زمانہ میں خود بادشاہ میدان جنگ میں آتے تھے اور آپ ہی فوج کی کمان کرتے تھے اس لئے ان کا قتل یا قید ہو جانا بالکل شکست کے مترادف ہوتا تھا اور بادشاہ کے ہاتھ سے جاتے رہنے پر فوج بے دل ہو جاتی تھی اور اس کے قدم اکھڑ جاتے تھے اور اس کی مثال ایسی ہی ہو جاتی تھی جیسے بے سر کا جسم۔ کیونکہ جس کی خاطر لڑتے تھے رہی نہ رہا تو لڑائی سے کیا فائدہ۔ پس بادشاہ یا سردار کا قتل یا قید کر لینا بڑی سے بڑی شکستوں سے زیادہ مفید اور نتائج قطعیہ پر منتج تھا اس لئے جس قدر خطرہ بادشاہ کو ہوتا تھا اتنا اور کسی انسان کو نہ ہوتا۔ اس بات کو جو شخص اچھی طرح سمجھ لے اسے ذیل کا واقعہ محو حیرت بنا دینے کے لئے کافی ہے عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَّانَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا لَقِيْنَا هُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوا فَا قُبَلَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ فَلَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرُّ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخِذُ بِلِجَا مِهَا وَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ (بخاری کتاب الجھاد باب من قاد دابة غيره في الحرب براء بن عازب سے روایت ہے کہ آپ سے کسی نے کہا کہ کیا تم لوگ جنگ لوگ جنگ حنین کے دن رسول کریم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ آپ نے جوا آپ نے جواب میں کہا کہ رسول کریم انہیں بھاگے ۔ ہوازن ایک تیرانداز قوم تھی اور تحقیق ہم ؟ اہم جب ان سے ملے تو ہم نے ان پر حملہ کیا اور روہ بھاگ گئے ۔ ان کے بھاگنے پر مسلمانوں نے ان کے اموال جمع کرنے شروع کئے لیکن ہوازن نے ہمیں مشغول دیکھ کر تیر برسانے شروع کئے پس اور لوگ تو بھاگے مگر رسول کریم ال نہ بھاگے بلکہ اس وقت میں نے دیکھا تو آپ اپنی سفید فیچر پر سوار تھے اور ابو سفیان نے آپ کے فیچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور آپ فرما رہے تھے میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے۔ میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں۔ اس واقعہ کی اہمیت کے روشن کرنے کے لئے میں نے پہلے بتایا تھا کہ بادشاہ لشکر میں سب سے زیادہ خطرہ میں ہوتا ہے کیونکہ جو نقصان بادشاہ کے قتل یا قید کر لینے سے لشکر کو پہنچتا ہے وہ کوئی ہزار