انوارالعلوم (جلد 1) — Page 541
انوار العلوم جلد 1 ۵۴۱ سيرة النبي سپاہیوں کے مارے جانے سے نہیں پہنچتا۔ پس دشمن کو جس قدر آپ کا تجسس ہو سکتا تھا اور کسی کا نہیں۔ پس جبکہ اچانک دشمن کا حملہ ہوا اور وہ اپنے پورے زور سے ایک عارضی غلبہ پانے میں کامیاب ہوا اور لشکر اسلام اپنی ایک غلطی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا تو دشمن کے لئے ایک غیر مترقبہ موقع تھا کہ وہ آنحضرت ا پر حملہ کرتا اور اپنے مدت کے بغض اور عناد کو عملی جامہ پہناتا۔ پس ایسی صورت میں آپ کا وہاں کھڑا رہنا ایک نہایت خطرناک امر تھا جو نہایت بہادری اور جرات چاہتا تھا اور عام عقل انسانی اس واقعہ کی تفصیل کو دیکھ کر ہی حیران ہو جاتی ہے کہ کس طرح صرف چند آدمیوں کے ساتھ آپ وہاں کھڑے رہے۔ آپ کے ساتھ اس وقت بارہ ہزار بہادر سپاہی تھے جو ایک سے ایک بڑھ کر تھا اور سینکڑوں مواقع پر کمال جرات دکھلا چکا تھا مگر حنین میں کچھ ایسی ابتری پھیلی اور دشمن نے اچانک تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ بہادر سے بہادر سپاہی کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ تاب مقابلہ نہ لاسکا حتی کہ جنگ کا عادی بلکہ میدان جنگ کا تربیت یافتہ عرب کا گھوڑا بھی گھبرا کر بھاگا اور بعض صحابہ کا بیان ہے کہ اس شدت کا حملہ تھا کہ ہم باوجود کوشش کے نہ سنبھل سکتے تھے اور چاہتے تھے کہ پاؤں جما کر لڑیں مگر قدم نہ جمتے تھے اور ہم اپنے گھوڑوں کو واپس کرتے تھے لیکن گھوڑے نہ لوٹتے اور ہم اس قدران کی باگیں کھینچتے تھے کہ گھوڑے دوہرے ہو جاتے تھے مگر پھر آگے کو ہی بھاگتے تھے اور واپس نہ لوٹتے تھے۔ پس اس خطرناک وقت میں جب ایک جرار لشکر پیٹھ پھیر چکا ہو ایک شخص تن تنہا صرف وفادار خدام کے ساتھ دشمن ۔ دشمن کے مقابلہ میں کا میں کھڑا رہے اور تیروں کی بارش کی ذرا بھی پرواہ نہ کرے تو یہ ایک ایسا فعل نہیں ہو سکتا جو کسی معمولی جرأت یا دلیری کا نتیجہ ہو بلکہ آپ کے اس فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے سینہ میں ایک ایسا دل رکھتے تھے جو کسی سے ڈرنا جانتا ہی نہ تھا اور خطرناک دشمن کے مقابلہ میں !۔ میں ایسے وقت جبکہ اس کے پاس کوئی ظاہر سامان موجود نہ ہو کھڑا رہنا اس کے لئے ایک معمولی کام تھا اور یہ ایک ایسا دلیرانہ کام ہے ایسی جرات کا اظہار ہے کہ جس کی نظیر اولین و آخرین کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ چند آپ (فداہ ابی رامی) خوب جانتے تھے کہ کفار عرب کو اگر کسی جان کی ضرورت ہے تو میری جان کی ۔ اگر وہ کسی کے دشمن ہیں تو میرے دشمن ہیں۔ اگر وہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو مجھے ۔ مگر 6 باوجود اس علم کے بار جو بے یار و مددگار ہونے کے آپ ایک قدم پیچھے نہ ہٹے بلکہ اس خیال۔ سے کہ کہیں خچر ڈر کر نہ بھاگ جائے ایک آدمی کو باگ پکڑوادی کہ اسے پکڑ کر آگے بڑھاؤ تا یہ بے بس سے پکڑ کر آگے بڑھاؤ تا یہ ہے بس