انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 534

انوار العلوم جلدا ۵۳۴ سيرة النبي اللہ پھر کونسا عمل ۔ فرمایا کہ والدین سے نیکی کرنا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر کون سا عمل ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرنا۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ مجھ سے نبی کریم نے یہ بیان فرمایا اور اگر میں آپ سے اور پوچھتا تو آپ اور بتاتے۔ بظاہر تو یہ حدیث ایک ظاہر بین کو معمولی معلوم ہوتی ہو گی لیکن غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کا وقار کیسا تھا کہ صحابہ آپ سے جس قدر سوال کئے جائیں آپ گھبراتے نہ تھے بلکہ جواب دیتے چلے جاتے جاتے اور صحابہ کو یقین تھا کہ آپ ہمیں ڈانٹیں گے نہیں۔ امراء کو ہم دیکھتے ہیں کہ ذرا کسی نے دو دفعہ سوال کیا اور چیں بجبیں ہو گئے ۔ کیا کسی کی مجال ہے کہ کسی بادشاہ وقت سے بار بار سوال کرتا جائے اور وہ اسے کچھ نہ کے بلکہ بادشاہوں اور امراء سے تو ایک دفعہ سوال کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور وہ سوالات کو پسند ہی نہیں کرتے اور سوال کرنا اپنی شان کے خلاف اور بے ادبی جانتے ہیں اور اگر کوئی ان سے سوال کرے تو اس پر سخت غضب نازل کرتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہم رسول کریم اللہ کو جانتے ہیں کہ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہونے کے طبیعت میں ایساد قار ہے کہ ہر ایک چھوٹا بڑا جو دل میں آئے آپ سے پوچھتا ہے اور جس قدر چاہے سوال کرتا ہے۔ لیکن آپ اس پر بالکل ناراض نہیں ہوتے بلکہ محبت اور پیار سے جواب دیتے ہیں اور اس محبت کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں یقین کر لیتے ہیں کہ ہم جس قدر بھی سوال کرتے جائیں آپ ان سے اکتائیں گے نہیں۔ کیونکہ جو حدیث میں اوپر لکھ آیا ہوں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اس موقع پر آپ اعتراضات سے نہ گھبرائے بلکہ آپ کی یہ عادت تھی کہ آپ دین کے متعلق سوالات سے نہ گھبراتے تھے کیونکہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جتنے سوال آپ سے کئے آپ نے ان کا جواب دیا ۔ اور پھر فرماتے ہیں کہ لَوِ اسْتَزَرْتُ کزاد - اگر میں اور سوال کرتا تو آپ پھر بھی جواب دیتے ۔ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ آپ جس قدر سوالات بھی کرتے جائیں آنحضرت ا اس پر ناراض نہ ہوں گے بلکہ ان کا جواب دیتے جائیں گے اور یہ نہیں ہو سکتا تھا جب تک رسول کریم ﷺ کی عام عادت یہ نہ ہو کہ آپ ہر قسم کے سوالات کا جواب دیتے جائیں۔ دیگر احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صحابہ کے سوالات پر خفانہ ہوتے تھے بلکہ بڑی خندہ پیشانی سے ان کے جواب دیتے تھے اور یہ آپ کے وقار کے اعلیٰ درجہ پر شاہد ہے کیونکہ معمولی طبیعت کا آدمی بار بار سوال پر گھبرا جاتا ہے مگر آپ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہونے کے تم