انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 535

انوار العلوم جلدا ۵۳۵ سيرة النبي رحمت و شفقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھاتے رہے جو عام انسان تو کجا دیگر انبیاء بھی نہ دکھا سکے۔ اس حدیث کے علاوہ ایک اور حد یہ حدیث یث بھی ہے جس سے آپ کے وقار کا علم ہو سکتا ہے۔ اور گو یہ حدیث میں پہلے بیان کر چکا ہوں کیونکہ اس سے آپ کے یقین اور ایمان پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن چونکہ اس ۔ چونکہ اس حدیث سے آپ کے وقار کا حال بھی کھلتا ہے اس ۔ وقار کا حال بھی کھلتا ہے اس لئے اس جگہ بھی بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سراقہ بن جعشم کہتا ہے کہ جب رسول کریم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو ئے تو مجھے اطلاع ملی کہ آپ کے لئے اور حضرت ابو بکر کے لئے مکہ والوں نے انعام مقرر کیا ہے جو ایسے شخص کو دیا جائے گا جو آپ کو قتل کر دے یا قید کر لائے۔ اس پر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگا اور چاہا کہ جس طرح ہو آپکو گرفتار کرلوں تا اس انعام سے متمتع ہو کر اپنی قوم میں مالدار رئیس بن۔ بن جاؤں ۔ جب میں آپ کے قریب پہنچا میرے گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور میں زمین پر گر پڑا ۔ اس پر میں نے اٹھ کر تیروں سے فال نکالنی چاہی کہ آیا یہ کام اچھا ہے یا برا کروں یا نہ کروں اور تیروں میں سے وہ جواب نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا یعنی مجھے آپ کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے ۔ مگر پھر بھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور آپ کے پیچھے بھاگا اور اس قدر نزدیک ہو گیا کہ آپ کی قراءت کی آواز آنے لگی اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بالکل کسی طرف نہ دیکھتے تھے مگر حضرت ابو بکر بار بار ادھر ادھر دیکھتے جاتے تھے۔ ت ما اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ا میں صفت و قار نہایت اعلیٰ درجہ پر تھی اور آپ خطر ناک سے خطرناک اوقات میں بھی اپنے نفس کی بڑائی کو نہ چھوڑتے تھے ۔ اور خواہ آپ کو گھر میں بیٹھے ہوئے اپنے شاگردوں سے معاملہ کرنا پڑے جو دین کی جدت کی وجہ سے بار بار سوال کرنے پر مجبور تھے اور خواہ میدان جنگ میں دشمن کے ملک میں خطرناک دشمنوں کے مقابلہ میں آنا پڑے ہر دو صورتوں میں آپ اپنے وقار کو ہاتھ سے نہ دیتے۔ اور جس وقت صابر صابر اور دلیر سے دلیر انسان چڑ چڑاہٹ اور گھبراہٹ کا اظہار کرے اس و اس وقت بھی آپ کو تار پر قائم رہتے اور تعلیم اور جنگ دوہی موقعہ ہوتے ہیں جہاں وقار کا امتحان ہوتا ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ اسی وجہ سے استادوں کو اپنے اخلاق کے درست کرنے کی کیسی ضرورت رہتی ہے اور جو استاد اس بات سے غافل ہو جائے اور اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھے بہت جلد طلباء اس کے اخلاق کو بگاڑ دیتے ہیں یہی حال میدان جنگ میں بہادر سپاہی کا ہوتا ہے جو باوجود جرات اور بہادری کے بعض اوقات وقار کھو بیٹھتا ہے اور چھچھوراپن اور گھبراہٹ کا اظہار کر بیٹھتا ہے مگر وہ نیکوں کا نیک