انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 533

انوار العلوم جلد ا ۵۳۳ سيرة النبي اللة ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بڑی عزت والا ہے یا معزز ہے لیکن دراصل اس لفظ سے گو بڑائی اور عزت کے معنے نکلتے ہیں لیکن اس سے مراد نفس کی بڑائی ہوتی ہے یعنی جس شخص میں چھچھوراپن کمینگی اور ہلکا پن نہ ہو ۔ ذرا ذرا سی بات پر چڑ نہ جائے لوگوں کی باتیں سنکر ان پر حوصلہ نہ ہار دے۔ مخالف کی باتوں کو ایک حد تک برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہو ۔ اسے صاحب وقار کہیں گے ۔ اور جو رذیل لوگوں کی صحبت میں رہتا ہو ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑ جاتا ہو، ذرا ذرا سی تکلیف پر گھبرا جاتا ہو، چھوٹے چھوٹے مصائب پر ہمت ہار بیٹھتا ہو وہ صاحب وقار نہیں ہو گا۔ خواہ اسکے پاس کتنی ہی دولت ہو اور کیسے ہی عظیم الشان عہدہ پر مقرر ہو ۔ پس گو وقار کے معنوں میں عظمت اور بڑائی بھی ہے مگر میری اس جگہ وقار سے وہی مراد ہے جو میں نے پہلے بیان کر دی ہے۔ آنحضرت ا کو جو عہدہ اور شان اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی وہ دنیاوی بادشاہوں سے کسی صورت میں کم نہ تھی۔ اور گو آپ خود اپنے زہد و تقویٰ کی وجہ سے اپنی عظمت کا اظہار نہ کرتے ہوں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ ایک بادشاہ تھے اور نم اور تمام عرب آپ کے ماتحت ہو گیا تھا اور اگر آپ ان سب طریقوں کو اختیار کر لیتے جو اس وقت کے بادشاہوں میں مروج تھے تو دنیادی نقطۂ خیال سے آپ پر کوئی الزام قائم نہیں ہو ہو سکتا تھا اور آپ دنیاوی حکومتوں کی نظر میں بالکل حق بجانب ہوتے تے لیکن آپ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے نہ تھی جو تھی جو شہروں اور ملکوں پر حکومت کے نام سے مشہور ہے بلکہ دراصل آپ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے تھی جو آپ کو اپنے دل پر پر حاصل تھی۔ جو آپ کو دو جو آپ کو دوسرے لوگوں کے دلوں پر حاصل تھی۔ آپ نے باوجود بادشاہ ہونے کے اس طریق کو اختیار نہ کیا جس پر بادشاہ چلتے ہیں اور اپنی عظمت کے اظہار کے لئے وہ نمائشیں نہ کیں جو سلطان کیا کرتے ہیں کیونکہ آپ نبی تھے اور نبیوں کے سردار تھے اور بادشاہ ہو کر جو معاملہ آپ نے اتباع سے کیا وہ اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آپ کا نفس کیسا پاک تھا اور ہر قسم کے بداثرات سے کیسا منزہ تھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ قَالَ الصَّلوةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَيُّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ أَيُّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِى بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي ( صحیح بخاری کتاب المواقيت باب فضل الصلوة لوقتها ، میں نے نبی کریم اللہ سے پوچھا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا ہے ۔ فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے عرض کیا یا رسول